Gas Leakage Web ad 1

خاموشی کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟

سحر بشارت

0

جب خاموشی انسانی جذبات پر غالب آ جاتی ہے تو معاشرہ انسانیت کھونے لگتا ہے اور تشدد زندگی کا معمول بن جاتا ہے۔ طاقت کا غیر مساوی استعمال صنفی امتیاز کو مزید گہرا کرتا ہے جس کے نتیجے میں خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف تشدد ایک عام سماجی رویہ بن جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں جہاں نظام خود صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خلاف مو ¿ثر کردار ادا نہ کرے وہاں متاثرہ افراد انصاف حاصل کرنے کے بجائے خود ہی الزام، تضحیک اور خاموشی کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2021 میں درج ہونے والے مقدمات کی تعداد 30 ہزار 757 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 61 ہزار 997 تک پہنچ گئی۔ ان متاثرین میں خواتین، بچے، بالخصوص کم عمر بچیاں اور دیگر کمزور طبقات سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں۔یہ جرائم صرف ایک فرد کی زندگی کو متاثر نہیں کرتے بلکہ پورے معاشرے کے امن، اعتماد اور سماجی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اس کی بڑی وجوہات میں فرسودہ سماجی رویے، متاثرہ فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روایت، قوانین پر کمزور عمل درآمد اور انصاف کے نظام کی خامیاں شامل ہیں۔ یہی عوامل مجرموں کو سزا سے بچ نکلنے کا موقع دیتے ہیں جبکہ اس خاموشی کی اصل قیمت متاثرہ افراد کے ساتھ ساتھ پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔
عالمی سطح پر صنفی مساوات کی صورتحال کا جائزہ لینے والی ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025 کے مطابق پاکستان 148 ممالک میں سب سے آخری نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں پاکستان سوڈان، چاڈ، ایران، گنی، کانگو، نائجر، الجزائر اور مالی جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صنفی مساوات کی شرح صرف 56.7 فیصد ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خواتین اور مردوں کے درمیان مواقع اور حقوق کا فرق اب بھی انتہائی گہرا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خواتین اور بچیوں کےلئے عوامی مقامات آج بھی غیر محفوظ ہیں جبکہ ان کے خلاف تشدد روزمرہ زندگی کا ایک تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی 2023کی رپورٹ بھی اسی تشویش کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جن معاشروں میں عدم مساوات، مسلح تنازعات اور معاشی مشکلات بڑھتی ہیں، وہاں جنسی تشدد کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً ہر تین میں سے ایک خاتون یعنی لگ بھگ 84 کروڑ خواتین زندگی میں کبھی نہ کبھی جسمانی یا جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ ان میں 32 فیصد خواتین اپنے شریکِ حیات یا قریبی ساتھی کے ہاتھوں جبکہ 8 فیصد کسی غیر متعلقہ شخص کے تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ شرح مختلف خطوں میں مختلف ہے، تاہم اوشیانا میں یہ تناسب سب سے زیادہ 37 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ سب صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں یہ بالترتیب 32 اور 31 فیصد ہے۔ جنوبی ایشیا کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے جہاں ہر چار میں سے ایک بچی (26.8 فیصد) اور ہر چھ میں سے ایک بچہ (15.5 فیصد) جنسی تشدد کے خطرے سے دوچار ہوتا ہے۔
پاکستان میں بھی حالات کسی طور حوصلہ افزا نہیں۔ صرف جون کے مہینے کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران ذرائع ابلاغ میں خواتین کے خلاف تشدد کے کئی افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے۔ گجرات کے علاقے کاکریلی کے گاو ¿ں اوڈھا میں 18 سالہ آمنہ سحر کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اپنے ہی اہلِ خانہ نے قتل کر دیا جبکہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاو ¿ن میں 3 جون کو 64 سالہ شخص علی اکبر نے ازدواجی تعلقات سے انکار پر اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ یہ واقعات اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں، بلکہ روزانہ رونما ہونے والا ایک انسانی المیہ ہے جس کی قیمت پورا معاشرہ ادا کر رہا ہے۔
جون کے مہینے میں پیش آنے والے دیگر افسوسناک واقعات بھی معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کےلئے کافی ہیں۔ 5 جون کو کوئٹہ کے سول ہسپتال/سندھ میں صوبائی ہسپتال میں ڈیوٹی پر موجود نوجوان لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینک دیا۔ 7 جون کو جھنگ کی 17 سالہ طالبہ مشال فاطمہ، جسے مبینہ طور پر چار روز قبل اغوا کیا گیا تھا، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ 22 جون کو سرگودھا میں سات سالہ منتہیٰ زہرہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اسی طرح 24 جون کو فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا کی بستی سرلی میں آٹھ سالہ شکیل سلیم کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ 25 جون کو کراچی کے علاقے قائد آباد میں صرف تین سالہ کلثوم قاسم کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے سفاکی سے قتل کر دیا گیا۔ یہ ایسے سانحات ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔
ان واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیوز، تصاویر اور خبریں دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئیں۔ سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار ہوا، ٹیلی وژن چینلز پر بحثیں ہوئیں اور اخبارات میں نمایاں سرخیاں لگیں مگر افسوس کہ یہ ردِعمل زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ عموماً دو روز کے اندر کوئی نیا واقعہ پرانے سانحے کو پسِ منظر میں دھکیل دیتا ہے اور معاشرہ ایک بار پھر خاموشی اوڑھ لیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا غصہ تو فوری بھڑک اٹھتا ہے لیکن انصاف فراہم کرنے اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لئے موجود نظام اسی رفتار سے حرکت نہیں کرتا۔
یہ اندوہناک واقعات نہ صرف عوام میں خوف اور بے یقینی کو جنم دیتے ہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کو بھی نمایاں کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین، بچیاں، بچے اور دیگر کمزور طبقات آج بھی عدم تحفظ، امتیازی رویوں اور تشدد کے مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے نتیجے میں صرف جانوں کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کا اعتماد، آزادی، خود اعتمادی اور محفوظ مستقبل کا احساس بھی مجروح ہو جاتا ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے کمزور ترین افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کے اثرات پورے سماجی ڈھانچے پر مرتب ہوتے ہیں اور خاموشی خود ایک اجتماعی جرم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
یہ تمام واقعات اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں تشدد اب ایک سنگین اور تیزی سے پھیلتے ہوئے سماجی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ساحل کی رپورٹ 2025 کے مطابق ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں 8 فیصد جبکہ صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے کیسز میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 1546 افراد قتل ہوئے، 1345 اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے اور 1169 افراد تشدد کا نشانہ بنے۔اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جنسی تشدد کا سامنا کرنے والوں میں 14.6 فیصد بچیاں اور 19.5 فیصد بچے شامل تھے جبکہ اوسطاً روزانہ نو سے زیادہ بچے کسی نہ کسی شکل میں تشدد یا استحصال کا شکار ہوئے۔ اس کے علاوہ 877 ریپ، 680 خودکشی، 449 زخمی ہونے، 316 ہراسانی، 41 تیزاب گردی اور 248 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بھی رپورٹ کئے گئے۔ یہ اعداد و شمار محض نمبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ان کے پیچھے سیکڑوں خاندانوں کی ٹوٹتی امیدیں، بکھرتی زندگیاں اور ایسے زخم چھپے ہیں جو شاید کبھی مندمل نہ ہو سکیں۔
یہ ہولناک جرائم محض چند الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع سماجی رویے کی عکاسی کرتے ہیں، جسے وقت گزرنے کے ساتھ یا تو ”ذاتی معاملہ“ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ اکثر اس سوچ کی بنیاد گھر سے پڑتی ہے جہاں روزمرہ زندگی میں رائج صنفی امتیازات، بچوں کی پرورش کے انداز اور سماجی روایات غیر محسوس طریقے سے تشدد اور عدم مساوات کو معمول کا حصہ بنا دیتی ہیں۔
مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ نقصان دہ صنفی رویے صرف خاندان ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سوچ، اقدار، طرزِ عمل اور سماجی روایات کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی رویے بعد ازاں ایک ایسے معیار کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس میں ظلم کو چھپانا اور متاثرہ فرد کو خاموش رہنے پر مجبور کرنا معمول سمجھا جاتا ہے۔
رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ صنفی بنیاد پر تشدد کے 32 فیصد واقعات میں ملزم متاثرہ فرد کا جاننے والا تھا، 18 فیصد کیسز میں اجنبی افراد ملوث تھے جبکہ 12 فیصد واقعات میں شوہر ہی تشدد کا مرتکب پایا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ تقریباً 20 فیصد مقدمات میں ملزم کی شناخت ہی درج نہیں کی گئی۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بچوں کی بہتر تربیت، گھریلو ماحول، معاشرتی شعور اور کمیونٹی کی مشترکہ ذمہ داری ایسے جرائم کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔ جب تک گھر، خاندان، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر احترام، برابری اور تحفظ کی اقدار کو فروغ نہیں دیں گے تب تک صرف قوانین بنانا اس مسئلے کا مکمل حل ثابت نہیں ہوگا۔
یونیسیف کے تحقیقی تجزیے کے مطابق اگر بچوں کو کم عمری ہی سے اپنے جسم کے تحفظ، ذاتی حدود (Boundaries) اور اچھے اور برے لمس
(good and bad touch) کے بارے میں مناسب آگاہی دی جائے تو جنسی استحصال کے خطرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ تاہم پاکستان میں سماجی اور ثقافتی روایات اس عمل کو آسان نہیں بناتیں۔ ہمارے معاشرے میں بچوں کی دیکھ بھال اور ان سے اظہارِ محبت کے حوالے سے رشتہ داروں، ہمسایوں اور جاننے والوں پر حد سے زیادہ اعتماد کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بچے اکثر یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کون سا رویہ محبت اور تحفظ کا اظہار ہے اور کون سا ان کی ذاتی حدود کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ تربیت زندگی کے ابتدائی برسوں ہی میں شروع ہونی چاہئے کیونکہ چھوٹی عمر میں بچے اپنی ذاتی حدود اور جسمانی خودمختاری کے تصور سے واقف نہیں ہوتے۔ اگر یہ باتیں انہیں بہت بعد میں سکھائی جائیں تو ان کے اندر خوف، الجھن اور عدمِ تحفظ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، نجی معاملات پر خاموش رہنے کی سماجی روایت بھی بچوں کی یہ صلاحیت کمزور کر دیتی ہے کہ وہ کسی غیر محفوظ صورتحال کو پہچان سکیں، اس پر اعتراض کریں یا کسی قابلِ اعتماد شخص کو اس کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔
اسی طرح بڑوں کی مو ¿ثر نگرانی کا فقدان اور ”اجتماعی پرورش“کا رواج-جس میں والدین ہمسایوں، رشتہ داروں یا جاننے والوں پر بلا جھجھک اعتماد کر لیتے ہیں-بعض اوقات بچوں کے لئے خطرات میں اضافہ کر دیتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ذاتی حدود، جسمانی تحفظ اور احتیاط کے بارے میں گھر میں کھل کر بات نہ کی جائے۔ اعتماد اپنی جگہ اہم ہے لیکن بچوں کو اپنی حفاظت کے بنیادی اصول سکھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ آئینِ پاکستان خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کےلئے واضح قانونی ضمانتیں فراہم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 14 ہر شہری کے وقار اور عزتِ نفس کو بنیادی حق قرار دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 25 قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی اصولوں کا تقاضا ہے کہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کو ہر قسم کے تشدد، استحصال اور امتیازی سلوک سے محفوظ رکھا جائے اور انہیں بلاامتیاز انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے
آئینِ پاکستان خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کی واضح ضمانت دیتا ہے اور اسی آئینی ذمہ داری کے تحت چاروں صوبوں میں گھریلو تشدد کے خلاف قوانین بھی نافذ کئے جا چکے ہیں۔ تاہم مسئلہ قانون سازی کا نہیں بلکہ ان قوانین پر موثر عمل درآمد کا ہے۔
سندھ میں گھریلو تشدد (gender-based violence GBV) ایکٹ 2013 ، بلوچستان میں گھریلو تشدد (GBV) ایکٹ 2014 ، پنجاب میں خواتین کو تشدد سے تحفظ ایکٹ 2016 اور خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کے تحفظ کا ایکٹ 2021 نافذ کیا گیا۔ ان قوانین کے تحت گھریلو تشدد کو جرم قرار دیا گیا ہے اور متاثرہ افراد کےلئے مالی امداد، تحفظ کے احکامات، رہائش کے حقوق اور بچوں کی تحویل سے متعلق عدالتی احکامات جیسی سہولتوں کی بھی گنجائش موجود ہے۔
وفاقی سطح پر بھی گھریلو تشدد (GBV) ایکٹ 2026 نافذ ہے، تاہم اس کا اطلاق صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک محدود ہے۔ اس سے قبل پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد (GBV) بل 2025 منظور کیا تھا جس کا مقصد خواتین، بچوں اور دیگر کمزور افراد کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنا اور متاثرین کےلئے امداد، بحالی اور معاونت کے مو ¿ثر انتظامات کرنا تھا۔
اگرچہ قانونی ڈھانچہ بظاہر مضبوط دکھائی دیتا ہے لیکن عملی صورت حال مختلف ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 کئی حوالوں سے منفرد ضرور ہے مگر اس قانون کے تحت جن اداروں اور سہولتوں کے قیام کا تصور پیش کیا گیا تھا وہ ابھی تک مکمل طور پر وجود میں نہیں آ سکے۔ قانون میں پروٹیکشن آفیسرز، خصوصی عدالتوں، خواتین کے تحفظ کی کمیٹیوں اور ایسے نظام کا ذکر موجود ہے جہاں متاثرہ خاتون براہِ راست انصاف کےلئے رجوع کر سکے لیکن یہ ڈھانچہ ابھی تک پوری طرح فعال نہیں ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کا عملی نفاذ زیادہ تر ملتان تک محدود ہے، جہاں وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر قائم کیا گیا تھا۔اسی طرح دفاتر میں خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کا قانون 2010 ، فوجداری قانون میں ترامیم (2006 اور 2016) اور انسدادِ زیادتی (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ 2021 بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کےلئے ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں مگر ان قوانین کی افادیت کا انحصار ان کے مو ¿ثر نفاذ پر ہے۔
بچوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی پاکستان میں قوانین کی کمی نہیں۔ زینب الرٹ ایکٹ 2020 ، انسدادِ زیادتی ایکٹ 2021 ، مختلف صوبوں کے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹس اور پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 بچوں کو جنسی استحصال، آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر سٹاکنگ، بچوں کی فحش نگاری اور نجی تصاویر کی غیر قانونی تشہیر جیسے جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کےلئے واضح قانونی بنیاد مہیا کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ ایک بار پھر قانون کے نفاذ کا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس، بچوں کی خصوصی عدالتیں اور متعلقہ کمیشن آج بھی ملک کے بیشتر حصوں میں مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں 34 چائلڈ پروٹیکشن عدالتوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اب تک صرف آٹھ عدالتیں قائم ہو سکی ہیں۔ اس صورتحال میں متاثرین کو بروقت انصاف اور مو ¿ثر تحفظ فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف قوانین کا وجود کسی بھی معاشرے کو محفوظ نہیں بنا سکتا۔ جب تک ان پر دیانت داری سے عمل درآمد، مو ¿ثر نگرانی، ادارہ جاتی استعداد اور متاثرین کےلئے فوری معاونت کا مضبوط نظام قائم نہیں کیا جاتا تب تک آئینی ضمانتیں اور قانونی تحفظ کاغذی وعدوں سے آگے نہیں بڑھ پائیں گے اور انصاف کا انتظار کرنے والے متاثرین خاموشی ہی کی قیمت ادا کرتے رہیں گے۔
اگرچہ پاکستان میں خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کے لئے ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ موجود ہے، ملک پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کا عزم بھی رکھتا ہے اور خواتین و بچوں کے حقوق سے متعلق متعدد بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کا بھی حصہ ہے لیکن اس کے باوجود گھریلو تشدد، صنفی بنیاد پر تشدد اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصل کمزوری قانون سازی میں نہیں بلکہ ان قوانین پر مو ¿ثر عملدرآمد میں ہے۔
عملدرآمد کی راہ میں ادارہ جاتی کمزوریاں، مالی وسائل کی کمی، سماجی رکاوٹیں اور وہ فرسودہ ذہنی رویے حائل ہیں جن کا سامنا متاثرہ افراد کو انصاف کی تلاش میں کرنا پڑتا ہے۔ ریاست نے اگرچہ قانونی ذمہ داریاں تو نبھائی ہیں لیکن ان قوانین کو مو ¿ثر بنانے کےلئے درکار وسائل، مضبوط ادارے اور مسلسل نگرانی ابھی تک مطلوبہ سطح پر فراہم نہیں کئے جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین، بچیاں، بچے اور دیگر کمزور طبقات آج بھی مکمل تحفظ سے محروم ہیں۔ جب تک قانون کے ساتھ ساتھ معاشرتی روایات، صنفی امتیاز پر مبنی سوچ اور نقصان دہ سماجی رویوں کو تبدیل نہیں کیا جائے گا اس مسئلے کا دیرپا حل ممکن نہیں۔
گھریلو تشدد، صنفی بنیاد پر جرائم اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ایسے جرائم کسی ایک جگہ یا طبقے تک محدود نہیں رہے۔ ان کی جڑیں ہماری روزمرہ زندگی میں پیوست ہیں۔ بازار، گلیاں، تعلیمی ادارے اور حتیٰ کہ گھر، جہاں انسان خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتا ہے بعض اوقات تشدد اور استحصال کی پہلی جگہ بن جاتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ مو ¿ثر نگرانی کا فقدان، گھریلو روابط میں کمزوری اور ایک دوسرے سے کھل کر بات نہ کرنا ہے۔اس صورتِ حال کا مقابلہ صرف عدالتوں اور قوانین کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا آغاز گھر سے ہونا چاہئے، جہاں اعتماد، محبت، باہمی احترام اور مکالمے کی فضا قائم کی جائے۔ والدین اپنے بچوں کی بات سنیں، ان کے جذبات کو اہمیت دیں اور ایسا ماحول فراہم کریں جہاں ہر فرد خود کو محفوظ، باوقار اور قابلِ احترام محسوس کرے۔ ایک ایسا گھر ہی دراصل ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی بعض فرسودہ سماجی روایات اور نقصان دہ رویوں پر تنقیدی نظر ڈالیں، انہیں ترک کرنے کا حوصلہ پیدا کریں اور ان کی جگہ احترام، مساوات اور ذمہ داری پر مبنی نئے سماجی رویے اپنائیں۔ یہ تبدیلی صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی روایات میں نظر آنی چاہئے تاکہ آنے والی نسلیں تشدد نہیں بلکہ احترام اور مساوات کی اقدار کے ساتھ پروان چڑھیں۔
اسی طرح اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں نوجوانوں کو احترامِ انسانیت، باہمی رضامندی (Consent)، ذاتی حدود اور تحفظ کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور والدین کی بھی تربیت کی جائے تاکہ وہ بچوں اور نوجوانوں کے رویوں میں ظاہر ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں یا خطرے کی ابتدائی علامات کو بروقت پہچان سکیں اور مناسب مدد فراہم کر سکیں۔
آخرکار خاموشی کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں بنتی۔ جب معاشرہ ظلم پر خاموش رہتا ہے تو اس کی قیمت صرف متاثرہ فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔ اگر ہم ایک محفوظ، باوقار اور انصاف پر مبنی پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں صرف قوانین بنانے پر اکتفا نہیں کرنا ہوگا بلکہ انہیں مو ¿ثر انداز میں نافذ کرنا، سماجی رویوں کو بدلنا اور ہر بچے، ہر عورت اور ہر کمزور فرد کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی آواز سنی جائے گی، اس کا تحفظ کیا جائے گا اور اسے انصاف ضرور ملے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک پرامن، مہذب اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔اس تبدیلی میں مقامی برادریوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ معاشرے کو ان فرسودہ اور نقصان دہ روایات کو چیلنج کرنا ہوگا جو تشدد، امتیاز اور خاموشی کو جنم دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی حوصلہ افزائی اور معاونت بھی ضروری ہے تاکہ وہ سماجی بدنامی کے خوف سے خاموش رہنے پر مجبور نہ ہوں بلکہ اعتماد کے ساتھ انصاف کےلئے اپنی آواز بلند کر سکیں۔
اسی طرح ذرائع ابلاغ بھی اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری صرف واقعات کی اطلاع دینا نہیں بلکہ عوامی شعور بیدار کرنا، متاثرہ افراد کی عزتِ نفس اور حقوق کا تحفظ کرنا، اور حکومت و متعلقہ اداروں کو موثر اقدامات پر آمادہ کرنا بھی ہے۔ ذمہ دار صحافت نہ صرف معاشرے کو حساس بناتی ہے بلکہ انسانی حقوق، تحفظ اور انصاف کے مطالبے کو بھی مضبوط آواز فراہم کرتی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ موجودہ قوانین اور پالیسیوں پر مو ¿ثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کے درمیان موجود خلا کو دور کیا جائے۔ اگرچہ دونوں انصاف کے نظام کے بنیادی ستون ہیں لیکن صنفی بنیاد پر تشدد، بچوں کے تحفظ اور متاثرین سے متعلق حساسیت اور پیشہ ورانہ آگاہی میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت، باوقار اور مو ¿ثر انصاف فراہم کیا جا سکے۔
تشدد کی روک تھام اور معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی کسی ایک ادارے یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی عمل ہے۔ خاندان، تعلیمی ادارے، مقامی برادریاں، ذرائع ابلاغ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریاست….سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ ایک محفوظ، مہذب اور انصاف پر مبنی معاشرہ اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب ہر گھر خوف کی نہیں بلکہ تحفظ، احترام، محبت اور اعتماد کی علامت بن جائے اور ہر فرد یہ یقین رکھے کہ اس کی عزت، جان اور آواز برابر اہمیت رکھتی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.