بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور سابق بھارتی فوجی پراوین سواہنی نے آپریشن سندور کے حوالے سے بنائی گئی بھارتی دستاویزی فلم کے دعووں اور حقیقت پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کی حقیقت بیان کردی۔

بھارت نے حال ہی میں مئی 2025 میں ہونے والے نام نہاد آپریشن سندور کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری فلم جاری کی، جس میں حقیقت کے برعکس بھارتی فوجی سبقت کو اجاگر کیا گیا۔ تاہم پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے نام نہاد آپریشن سندور پر بھارتی ڈاکیومنٹری کو حقائق مسخ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت معرکہ حق میں اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔
صنفی بجٹ سازی میں پاکستان سر فہرست، صنفی مساوات میں آخری نمبر
اب اس حوالے سے معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار اور مصنف پراوین سواہنی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگوں پر بنائی جانے والی فلمیں نہیں دیکھتے، تاہم سوشل میڈیا پر ان سے متعلق پوسٹس، تجزیے اور ویڈیو کلپس ضرور دیکھ لیتے ہیں۔
پراوین سواہنی نے کہا کہ جو شخص ان جنگوں کو سمجھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ ایسی تمام فلمیں حقیقت سے دور، انتہائی یکطرفہ اور بڑی خامیوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسی فلمیں کیوں بنائی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق ان فلموں کا مقصد بھارتی فوج کو پاکستانی فوج سے برتر دکھانا، ہائپر نیشنل ازم کو فروغ دینا اور بالواسطہ طور پر بھارتی عوام کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ بھارتی فوج احتساب سے بالاتر ہے، گویا اس پر سوال اٹھانا کسی مقدس چیز کی توہین کے مترادف ہو۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ 12 برسوں سے بیشتر بھارتی ایک خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں اور جو لوگ اس خیالی دنیا کا حصہ نہیں بننا چاہتے، انہیں اب ’’دماغی نکسل‘‘ کہا جاتا ہے۔
پراوین سواہنی نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں کیونکہ وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور حالات 2029 سے پہلے بہتری کی جانب ایک بڑی تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔



