جسٹس ایاز شوکت نے شہری جاوید اختر کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے وکیل آکاش تارا اور وکیل ریحان الدین عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل آکاش تارا نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کا فیصلہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے لیے واضح ہے کہ تعیناتیاں شفاف طریقے سے کی جائیں گی، تاہم یونیورسٹی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی مقررہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔
جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے گزشتہ 2 برسوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس جمع
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یونیورسٹی میں نائب صدور کی تعیناتی اوپن میرٹ پر ہونی چاہیے تھی، لیکن یہ تعیناتیاں صرف فیکلٹی ممبران میں سے کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی نے اپنا طریقہ کار وضع کرکے تعینائیاں کیں۔
جسٹس ایاز شوکت نے سماعت کے دوران ہدایت کی کہ یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ بورڈ آف گورنرز نے اپنے اختیارات کمیٹی کو تفویض کیے تھے یا نہیں۔
عدالت نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی اور سماعت ملتوی کردی۔