Gas Leakage Web ad 1

3 سال کی عمر میں اغوا ہوکر کئی سال بعد بازیاب ہونیوالا نوجوان

0

چین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ووہان یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس و ٹیکنالوجی میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اسی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لے لیا ہے، تاہم 21 سالہ پینگ وینل کی زندگی کی کہانی عام نوجوانوں سے بالکل مختلف ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

پینگ وینل کو 2008 میں محض 3 سال کی عمر میں شینزن شہر میں اپنے والدین کی دکان کے باہر سے اغوا کرلیا گیا تھا، تاہم تین سال بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے اور یہ سب ان کے والدین کی مسلسل تلاش کے باعث ممکن ہوا۔
جولائی میں تنخواہ دار طبقے سے گزشتہ 2 برسوں کے مقابلے میں زیادہ ٹیکس جمع
پینگ وینل نے اپنی تعلیمی کامیابی کو والدین کا شکریہ ادا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے والدین انہیں تلاش نہ کرتے تو ممکن ہے کہ وہ کسی گاؤں میں مویشیوں کی دیکھ بھال اور کھیتی باڑی کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہوتے۔

پینگ وینل کو اغوا کرنے والا شخص انہیں صوبہ جیانگسو کے ایک گاؤں میں لے گیا تھا۔ پینگ وینل اس روز دکان کے قریب دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ان کے والد پینگ گاؤفینگ کے مطابق ایک شخص انہیں زبردستی اپنے ساتھ بس میں لے گیا اور پھر غائب ہوگیا۔

پینگ گاؤفینگ، ان کی اہلیہ شیاؤنگ یانی اور پینگ وینل 2007 میں اپنے آبائی صوبے ہوبئی سے شینزن منتقل ہوئے تھے تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

بیٹے کی گمشدگی نے والدین کو شدید صدمے سے دوچار کردیا تھا۔ پینگ وینل کی والدہ کا وزن تقریباً 10 کلوگرام تک کم ہوگیا، جبکہ والد نے اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی۔

اس وقت چین میں سوشل میڈیا ویب سائٹس مقبول ہونا شروع ہوئی تھیں اور ایک صحافی کے مشورے کے بعد پینگ گاؤفینگ نے انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے بیٹے کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے پینگ وینل کی تصاویر آن لائن شیئر کیں اور اس طرح ان کی تلاش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

بالآخر 2011 میں وہ اپنے بیٹے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ایک یونیورسٹی طالبعلم نے ایک گاؤں میں ایسے بچے کو دیکھا جو پینگ وینل سے مشابہت رکھتا تھا۔

ابتدا میں پینگ گاؤفینگ کو اس اطلاع پر یقین نہیں آیا کیونکہ اس سے قبل بھی انہیں ایسی کئی کالز موصول ہوچکی تھیں، تاہم جب طالبعلم نے بچے کی تصاویر بھیجیں تو پولیس کی مدد سے وہ اپنے بیٹے کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے۔

بعد ازاں معلوم ہوا کہ پینگ وینل کو اغوا کرنے والے شخص کی خواہش ایک بیٹا حاصل کرنا تھی۔ اغوا کرنے والا شخص 2010 میں کینسر کے باعث انتقال کرگیا تھا، جبکہ اس کی اہلیہ نے دعویٰ کیا کہ اسے علم نہیں تھا کہ بچے کو اغوا کیا گیا ہے۔

بازیابی کے بعد پینگ وینل اپنے آبائی علاقے منتقل ہوگئے جبکہ ان کے والدین نے شینزن میں اپنا کام جاری رکھا۔

اب پینگ وینل پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان کے والدین کی مسلسل کوششوں کی بدولت ہی وہ آج ایک بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔

پینگ وینل کی زندگی کی اس متاثر کن کہانی سے متاثر ہوکر ایک فلم بھی بنائی گئی تھی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.