Gas Leakage Web ad 1

بیٹی کے چیلنج پر ایم بی اے پروگرام میں داخلہ لینے میں کامیاب ہونے والا باپ

0

اگر آپ کی بیٹی آپ کو کسی تعلیمی چیلنج کا سامنا کرنے پر مجبور کرے تو آپ کیا کریں گے؟

Gas Leakage Web ad 2

چین میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کی جانب سے طویل بحث کے دوران دیے گئے ایک چیلنج کو سنجیدگی سے لیا اور ایم بی اے پروگرام میں داخلہ حاصل کرکے اسے پورا کر دکھایا۔

چین کے صوبے شانشی کے شہر شیان سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ زینگ زیچیانگ نے تقریباً دو دہائیاں قبل گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔
مشعال یوسفزئی اکیلی نہیں بلکہ انکا گروپ ہے، حقیقت سامنے آجائے گی: سلمان اکرم راجا
عام طور پر وہ سال کے تقریباً 300 دن ملازمت کے سلسلے میں گھر سے باہر دوسرے شہروں میں گزارتے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ ہی بیٹی کی تعلیم اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہیں۔

گزشتہ سال زینگ زیچیانگ نے اپنے دفتری کام کا بوجھ کم کرکے اپنی 15 سالہ بیٹی کو زیادہ وقت دینے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ تعلیمی میدان میں مزید آگے بڑھ سکے۔

تاہم جلد ہی دونوں کے درمیان تناؤ بڑھنے لگا اور بیٹی کی تعلیم کے حوالے سے ایک بحث کے دوران بیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ دور کے طلبہ کو اپنے والد کی نسل کے مقابلے میں زیادہ تعلیمی دباؤ اور تدریسی بوجھ کا سامنا ہے۔

اسی دوران بیٹی نے اپنے والد کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ واقعی اہل ہیں تو ماسٹر ڈگری کے امتحان میں کیوں حصہ نہیں لیتے؟

زینگ زیچیانگ نے بیٹی کے اس چیلنج کو بہت سنجیدگی سے لیا اور عمر، ملازمت، ریاضی اور انگریزی کی صلاحیتوں میں کمی جیسے خدشات کے باوجود ماسٹر ڈگری کے امتحان کے لیے رجسٹریشن کرانے کا فیصلہ کیا۔

ان کی اہلیہ کو خدشہ تھا کہ یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی، تاہم اس کے باوجود انہوں نے شوہر کی بھرپور حمایت کی۔

زینگ زیچیانگ نے آن لائن کورسز میں داخلہ لیا اور کل وقتی ملازمت کے ساتھ ایک سخت تعلیمی شیڈول ترتیب دیا۔

انہوں نے صبح 6 سے 9 بجے تک انگریزی پڑھنے کا معمول بنایا، جبکہ ہر شام 5 گھنٹے ریاضی کی تیاری کے لیے وقف کیے۔

یہ تعلیمی شیڈول روزانہ 8 گھنٹے سے زائد مطالعے پر مشتمل تھا، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل سر درد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

پانچ ماہ کی سخت محنت کے بعد انہوں نے دسمبر 2025 میں چین کے قومی پوسٹ گریجویٹ انٹرنس امتحان میں شرکت کی اور کامیاب ہوگئے، جس کے بعد انہیں نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پارٹ ٹائم ایم بی اے پروگرام میں داخلے کی پیشکش کی گئی۔

انہیں داخلے کا خط جون 2026 میں موصول ہوا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ باقاعدہ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔

زینگ زیچیانگ کی اس کوشش کا ان کی بیٹی کے رویے پر بھی نمایاں اثر پڑا اور اس نے اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا شروع کردی۔

اگرچہ بیٹی نے براہ راست کبھی اپنے والد کو یہ نہیں بتایا کہ ان کی محنت نے اسے کس طرح متاثر کیا، تاہم زینگ زیچیانگ نے اس کے رویے میں مثبت تبدیلی ضرور محسوس کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو صرف لیکچر دینا کافی نہیں بلکہ ان کے لیے خود ایک مثال بننا بھی ضروری ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.