Gas Leakage Web ad 1

ایران کا امریکی جنگی بحری جہاز پر میزائل داغنے کا دعویٰ، سعودی عرب، کویت اور بحرین پر بھی حملے

0

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آ گئی ہے، جہاں امریکی افواج نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے متعدد فوجی، مواصلاتی اور بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے کیے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں کویت اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں اہواز، یزد، خارگ جزیرہ، جاسک اور خرم آباد سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کے نتیجے میں بجلی کی تنصیبات، پانی صاف کرنے والے پمپ، بندرگاہی سہولیات اور اہم شاہراہوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بعض مقامات پر شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بندر عباس اور رودان کے درمیان اہم شاہراہ پر دو بڑے پل متاثر ہوئے، جبکہ خارگ جزیرے کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق خطے میں 50 ہزار سے زائد اہلکار ہائی الرٹ پر ہیں۔

ایران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں بحرِ ہند میں ایک امریکی جنگی جہاز پر کروز میزائل داغنے اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق حملوں میں بجلی اور پانی کی تنصیبات متاثر ہوئیں جبکہ متعدد ڈرونز اور بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیے۔

اردن کی فوج نے بھی کہا ہے کہ اس نے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے دس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ بحرین میں بھی امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ایران کے سینئر رہنما اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو ایران مزید جارحانہ حکمت عملی اختیار کرے گا اور امریکی افواج کو مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ادھر اقوام متحدہ نے شہری انفراسٹرکچر، پلوں، بجلی گھروں اور دیگر عوامی تنصیبات پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سعودی عرب نے احتیاطی طور پر الخرج اور ینبع میں ہنگامی الرٹ جاری کیا، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ملک میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.