ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا پر مذاکراتی عمل کو طول دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن مسلسل اپنے مؤقف میں تبدیلی اور متضاد میڈیا پیغامات کے ذریعے مذاکرات کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات یا سفارت کاری بذاتِ خود فریقین کے درمیان اعتماد کی علامت یا اس کا نتیجہ نہیں ہوتے۔
اسماعیل بقائی نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم جنگ بندی کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ اور حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جن میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے میں پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کی جانب سے سیرک جزیرے پر حملے کے جواب میں کارروائی کی۔
لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی معاہدے اور جنگ کے خاتمے کا لازمی حصہ ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو دو الگ فریقوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
یورپی یونین نے افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے حقِ دفاع استعمال کرنے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا منافقت ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنانا ایران کے حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے، کیونکہ انہی مقامات کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے ان اصولوں پر قائم رہنا چاہیے جن کا وہ طویل عرصے سے دعویٰ کرتی آئی ہے۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو جارح قوتوں کو خوش کرنے کے بجائے ان ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا بند کرنا چاہیے جو غیر قانونی حملوں کا جواب دیتے ہیں اور اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے ان اڈوں اور اثاثوں کو نشانہ بنانا جو ایران پر غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں، بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔
اپنے بیان کے اختتام پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ ریاستوں پر یہ واضح قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا اثاثوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔