وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں سائبر کرائم سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے اور اجلاس میں پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔
روزانہ کتنے قدم چل کر آپ موٹاپے یا ذیابیطس کا خطرہ کم کرسکتے ہیں؟
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب سائبر کرائم یونٹ کے قیام کی منظوری کے بعد بلیک میلنگ اور ہراسمنٹ کا شکار بچوں کو شکایت کے لیے تھانے یا کسی دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ متاثرہ کم عمر بچوں اور بچیوں کی شکایت کے اندراج کے لیے موبائل یونٹ خود جائے گا، جبکہ متاثرہ بچے خصوصاً خواتین ورچوئل پولیس اسٹیشن کے ذریعے بھی اپنی شکایت درج کرا سکیں گی۔ اس کے ساتھ متاثرہ بچوں اور خواتین کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔
اس کے علاوہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔