نیویارک جانے والی پرواز میں بچے کی پیدائش، شہریت کے حوالے سے دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی
کیریبین ملک جمیکا سے امریکی شہر نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جب معمول کی ایک پرواز نے لینڈ کیا تو اس میں ایک اضافی مسافر کا اضافہ ہو چکا تھا۔
جی ہاں، واقعی کیریبین ایئرلائنز کی یہ پرواز 4 اپریل کو جمیکا کے شہر کنگسٹن سے روانہ ہوئی تھی اور دورانِ پرواز ایک خاتون مسافر کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں وراثتی اراضی کیسز کی نجی مقامات پر سماعت پر پابندی
اس واقعے نے نومولود بچے کی شہریت کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ صورتحال پیدا کر دی ہے۔
فضائی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ دورانِ پرواز ایک ایمرجنسی صورتحال پیش آئی، تاہم سب کچھ ٹھیک رہا اور خاتون نے بچے کو جنم دیا۔
بیان کے مطابق نیویارک پہنچنے کے بعد ماں اور بچے کا طبی ٹیم نے معائنہ کیا اور انہیں ضروری نگہداشت فراہم کی گئی۔
بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ نومولود لڑکا ہے یا لڑکی، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ تقریباً 4 گھنٹے طویل پرواز کے کس مرحلے پر بچے کی پیدائش ہوئی۔
اس حوالے سے طیارے کے پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کے درمیان گفتگو بھی سامنے آئی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ بچہ لڑکا ہے۔
پائلٹ نے ایئر کنٹرولر کو بتایا کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور ماں نے بچے کا نام کینیڈی رکھا ہے۔
بعد ازاں یہ بحث سامنے آئی کہ نومولود کو کس ملک کی شہریت حاصل ہوگی، کیونکہ اس حوالے سے صورتحال غیر واضح ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کے والدین کے بارے میں تفصیلات موجود نہیں ہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ پیدائش کے وقت طیارہ کس فضائی حدود میں تھا۔
اگر بچے کے والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری ہو تو بچے کو امریکی شہریت حاصل ہو سکتی ہے۔
اگر والدین امریکی شہری نہ بھی ہوں تو بھی امریکی قوانین کے مطابق اگر کسی بچے کی پیدائش امریکی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے طیارے میں ہو تو اسے امریکی شہریت دی جا سکتی ہے۔
اس حوالے سے امریکی سرحدی حکام کو پیدائش سے متعلق کچھ دستاویزات درکار ہوتی ہیں، جن میں طیارے کی میڈیکل لاگ، پائلٹ لاگ، پیدائش کا وقت اور اس وقت طیارے کی درست پوزیشن شامل ہوتی ہے۔
امریکی آئین کے مطابق امریکی حدود میں پیدا ہونے والے افراد کو عام طور پر امریکی شہری سمجھا جاتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدارت سنبھالنے کے بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت صرف امریکی شہری جوڑوں کے بچوں کو شہریت دینے کی بات کی گئی تھی۔
یہ ایگزیکٹو آرڈر ایک وفاقی عدالت نے روک دیا تھا اور اس پر کیس اب امریکی سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
عام طور پر فضائی کمپنیاں ایسی حاملہ خواتین کو سفر کی اجازت نہیں دیتیں جن کے حمل کو 36 ہفتوں سے زائد ہو، جبکہ 28 ہفتوں سے زائد حاملہ خواتین کو میڈیکل سرٹیفکیٹ کے ساتھ سفر کی اجازت دی جاتی ہے۔
کیریبین ایئرلائنز کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس موقع پر پرواز میں کسی ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ماں نے اپنی پرائیویسی کی درخواست کی ہے۔