اسلام آباد: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے مطالبات میں سے بتایا جائے کہ کون سا مطالبہ غیر آئینی یا ناقابل عمل تھا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پہلا مطالبہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دہشتگردوں کی مذمت کرنا تھا، دوسرا مطالبہ صوبے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ اور تیسرا مطالبہ افغانستان سے متعلق خارجہ پالیسی پر عمل درآمد تھا۔
سلمان اکرم نے محسن نقوی کا سہیل آفریدی پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام مسترد کردیا
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چوتھا مطالبہ افغان مہاجرین کی واپسی، پانچواں مطالبہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ پر نظرثانی، چھٹا مطالبہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں افواج کے ساتھ تعاون اور ساتواں مطالبہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل درآمد کرنا تھا۔
طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کے پاس مکمل مینڈیٹ نہیں تھا، اگر سہیل آفریدی خود یا کوئی صوبائی نمائندہ مذاکرات میں شامل ہوتا تو بہتر ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا اصل مقصد لانگ مارچ روکنا نہیں بلکہ دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو مذاکرات اب بھی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا معاملہ 26 سال پرانا ہے اور اسے 72 گھنٹوں میں حل کرنا مشکل ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو نیشنل ایکشن پلان پر صوبائی حکومت سے بات کرنی چاہیے، اگر تھوڑا وقت دیا جاتا تو مذاکرات کامیاب ہوسکتے تھے۔



