پاکستان: معرکہ حق میں ہم نے بھارت کے 8 جہاز گرائے، ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس
راولپنڈی: پاک فضائیہ کے ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس ائیر وائس مارشل طارق غازی نے کہا ہے کہ معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان نے بھارت کے 8 طیارے مار گرائے اور اب اسکور 8 صفر ہے۔
معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ائیر وائس مارشل طارق غازی نے بتایا کہ گرائے گئے بھارتی طیاروں میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل تھے جبکہ ایک انتہائی مہنگا کثیرالجہتی خودکار فضائی نظام بھی تباہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں ہم نے بھارت کے 8 طیارے گرائے اور اب ہم 8 صفر پر ہیں۔
ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف آپریشنز نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران بھارتی بحریہ نے کئی بار اپنا بحری بیڑہ تعینات کرنے کی کوشش کی، تاہم ہماری بندرگاہیں مکمل طور پر فعال اور ساحلی تنصیبات محفوظ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے دوران افواج کے درمیان ہم آہنگی ہماری فتح کی ضامن بنی اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
گزشتہ دو سال میں ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد تک اضافے کا انکشاف
اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ائیر وائس مارشل طارق غازی نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ہم مستقبل کی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب پاک فضائیہ کا پائلٹ جہاز میں بیٹھ کر روانہ ہو رہا تھا تو اس کے ذہن میں کسی قسم کا خوف نہیں تھا۔ یہ دنیا فانی ہے، جتنا وہ زندگی سے محبت کرتے ہیں اتنا ہی ہمیں شہادت سے عشق ہے، اور شہید کی موت اس کا زیور ہوتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معرکہ حق میں دنیا نے جو کچھ دیکھا وہ ہماری مجموعی عسکری صلاحیت کا صرف 10 سے 15 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، یہ حقیقت پاکستانی بچوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بچے بھی جانتے ہیں، اگرچہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے بڑی چالاکی سے یہ بیانیہ بنایا کہ پاکستان دہشتگردی کرتا ہے، حالانکہ خود بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے اور کشمیر و منی پور میں لوگوں پر ظلم کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے لیکن پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت جواب دے کہ اس واقعے کے پیچھے کون لوگ تھے، اور یہ بھی بتایا جائے کہ کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے صرف 15 منٹ بعد مقدمہ درج کر لیا کہ دہشتگرد سرحد پار سے آئے تھے، لیکن اگر ایسا تھا تو ان کی انٹیلی جنس ایجنسیاں اتنی ناکام کیوں رہیں کہ سرحد سے سیکڑوں کلومیٹر اندر آنے والوں کو نہ روک سکیں۔