اسلام آباد، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے وکیل ایمان مزاری کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری کو بطور گواہ طلب کرنے کی درخواست فی الحال زیرِ التواء رکھ دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ پراسیکیوشن کو کسی بھی شخص کو زبردستی بطور گواہ پیش کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احمد شریف چوہدری نہ تو اس مقدمے کی تفتیش کا حصہ رہے ہیں اور نہ ہی پراسیکیوشن کی جانب سے انہیں گواہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو عدالتی گواہ کے طور پر طلب کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ مناسب مرحلے پر کیا جائے گا، جو کہ ملزمان کے دفاعی بیانات سیکشن 342 کے تحت قلمبند ہونے کے بعد آئے گا۔
ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ایمان مزاری کی درخواست کو فی الوقت زیرِ التواء رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت مؤخر کر دی۔
Prev Post
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.