
اسلام آباد، 5 نومبر 2026: پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (پی ایم آئی ایف 26) 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں عالمی کان کنی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران، سرمایہ کار، پالیسی ساز، مالیاتی ادارے اور تکنیکی ماہرین شرکت کریں گے۔ فورم کا مقصد پاکستان کے وسیع معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنا اور عالمی معدنی سپلائی چینز کے ساتھ ملک کے روابط مضبوط بنانا ہے۔ یہ فورم حکومت پاکستان کے زیرِ اہتمام اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی سرپرستی میں منعقد ہورہاہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) فورم کا بانی شراکت دار ہے۔ اس ایونٹ کا مقصد پی ایم آئی ایف 25 کی کامیابیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے عالمی روابط کو فروغ دینا، پالیسی اصلاحات کو اجاگر کرنا اور سرمایہ کاری، معدنیات کی تلاش، پراسیسنگ اور پائیدار کان کنی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
فورم کے پہلے روز ابتدائی مرحلے کی معدنیاتی تلاش کے لیے مالی وسائل کی فراہمی، مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور کان کنی کے شعبے میں خواتین کی شمولیت پر توجہ دی جائے گی۔ شرکاء نئی نسل کے کان کنی منصوبوں، فعال لائسنسوں کے تحت ہونے والی دریافتوں اور معدنیاتی منصوبوں کو پیداواری مرحلے تک پہنچانے کی حکمت عملیوں پر بھی غور کریں گے۔ ”جیالوجیکل سروے میں تعاون کا فروغ: پاکستان کی معدنی صلاحیت سے استفادے کے نئے امکانات“ کے عنوان سے خصوصی سیشن میں باہمی تعاون، ڈیٹا کے تبادلے اور تکنیکی شراکت داری کے ذریعے ارضیاتی معلومات کو بہتر بنانے، معدنیات کی تلاش کے خطرات کم کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوگا۔Set featured image
ایک اور سیشن میں پاکستان کے کان کنی کے شعبے کی استعداد کار بڑھانے کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے گا، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی سرمایہ کاری ریکوڈک اور دیگر منصوبوں کی جانب متوجہ ہو رہی ہے۔ اس سیشن میں قومی استعداد کار بڑھانے کے پروگرام کے مقاصد اور سرکاری اداروں کی جانب سے شروع کیے گئے مختلف اقدامات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس کے بعد پروگرام کے پہلے دو بیچز کے فارغ التحصیل شرکاء میں اسناد تقسیم کرنے کی مختصر تقریب بھی منعقد ہوگی۔
فورم کے دوسرے روز سرمایہ کاروں کے لیے سازگار اور تیار کان کنی کے شعبے کی تشکیل کے حوالے سے حکومتی مکالمہ ہوگا۔ مختلف ممالک کے وزراء پالیسی اصلاحات، معاشی قدر میں اضافے، علاقائی تعاون، مقامی صنعت کی شمولیت، ہنرمندی کے فروغ اور طویل مدتی صنعتی ترقی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ پاکستان کی معدنیاتی ویلیو چین کے مختلف شعبوں سے متعلق اہم اسٹریٹجک اعلانات بھی متوقع ہیں۔ ”لائسنس سے عملی کامیابی تک: اعتماد، بنیادی ڈھانچے اور برآمدی راہداریوں کی تعمیر“ کے عنوان سے سیشن میں بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کے لیے بنیادی ڈھانچے، برآمدی راہداریوں اور ضروری سہولیات کی فراہمی پر غور کیا جائے گا۔
کان کنی کی عالمی کمپنیاں سماجی قبولیت کے حصول، ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ESG) معیارات اور سیکیورٹی کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ پاکستان میں ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کریں گی۔ اس میں آخری مرحلے کی لاجسٹکس، برآمدی راہداریوں، ریلوے، بجلی، پانی، سی پیک رابطوں اور دور دراز علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشنز کے لیے سرمایہ کاری کے مختلف ماڈلز شامل ہوں گے۔ فورم کے اختتام پر پی ایم آئی ایف کے صدر اور او جی ڈی سی کے ایم ڈی و سی ای او احمد حیات لک اختتامی کلمات ادا کریں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر فورم کے اہم مقررین میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر برائے توانائی علی پرویز ملک افتتاحی روز استقبالیہ خطاب کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک نے عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کمپنیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کو پی ایم آئی ایف 26 میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے وسیع معدنی وسائل سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی تعاون اور طویل مدتی شراکت داریوں کے فروغ کے لیے شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول کی تشکیل پر کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق پی ایم آئی ایف 26 عالمی سرمایہ کاروں، صنعتی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گا، جہاں وہ سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے، دیرپا شراکت داریاں قائم کرنے اور پاکستان کی معدنی صلاحیت کو عملی ترقی میں تبدیل کرنے کے امکانات تلاش کر سکیں گے۔
پی ایم آئی ایف کے صدر اور او جی ڈی سی کے ایم ڈی و سی ای او احمد حیات لک نے بھی عالمی سرمایہ کاروں، کان کنی کے شعبے کے رہنماؤں، پالیسی سازوں اور صنعتی شراکت داروں کو فورم میں شرکت کی دعوت دی ہے، تاکہ پاکستان کی معدنی صلاحیت کو عالمی مہارت اور سرمایہ کاری سے منسلک کیا جا سکے۔ احمد حیات لک نے کہا، ”ہم آپ کو 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ پاکستان وسیع معدنی وسائل اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع رکھنے والا ملک ہے۔ عالمی سطح کی بڑی صنعتی کمپنیاں اس فورم میں شرکت کریں گی۔ یہ فورم عالمی رہنماؤں کو پاکستان کے معدنی شعبے کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے اور دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرے گا۔ ہمیں اسلام آباد میں آپ سب کی آمد کا انتظار رہے گا۔“
فورم میں عالمی کان کنی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، انجینئرنگ و ٹیکنالوجی فرموں، ارضیاتی تنظیموں اور پاکستان کے سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ ان کی شرکت سے سرمایہ کاری، تکنیکی تعاون، پالیسی سازی اور کان کنی کے منصوبوں کی ترقی سے متعلق تبادلہ خیال کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ دو روزہ اسٹریٹجک کانفرنس میں پاکستان کے معدنی وسائل کی ترقی اور سرمایہ کاری کے حصول کے لیے ضروری پالیسی اور تجارتی تقاضوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
فورم کے بین الاقوامی مقررین میں آئیون ہو مائنز کے بانی اور ایگزیکٹو شریک چیئرمین رابرٹ فریڈلینڈ، بیرک مائننگ کارپوریشن کے چیئرمین جان ایل تھورنٹن، ووڈ میکنزی میں ای ایم ای اے میٹلز اینڈ مائننگ کنسلٹنگ کے سربراہ پیٹرک بارنز، انٹرنیشنل ریسورسز ہولڈنگ کے ہیڈ آف ڈسکوری اینڈ ریسرچ کولن جیمز ڈیوس، ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈائریکٹر جنرل ازابیل چیٹرٹن اور میٹسو مڈل ایسٹ کے ڈائریکٹر آف سروس آپریشنز جارمو تارکیانین شامل ہیں۔
کانفرنس کے سیشنز میں قومی معدنیاتی استعداد کار بڑھانے کے پروگرام کا بھی جائزہ لیا جائے گا، جس میں سرکاری اداروں کی جانب سے شروع کیے گئے اقدامات اور پہلے دو بیچز کے فارغ التحصیل شرکاء میں اسناد کی تقسیم شامل ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم آئی ایف 26 کے تحقیقی مقالوں کی دعوت کے تحت منتخب کیے گئے تین بہترین تعلیمی و تحقیقی مقالے بھی پیش کیے جائیں گے۔ پی ایم آئی ایف 26 میں ماہرینِ ارضیات، انجینئرز، کان کنی کے پیشہ ور افراد، محققین اور ماہرینِ تعلیم کے لیے ایک خصوصی تکنیکی کانفرنس بھی منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی معدنی ارضیات سے متعلق 50 سے زائد تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے، جبکہ شرکاء کو ارضیاتی سروے کے ڈیٹا اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کی روشنی میں ٹیکنالوجی کے تقابلی جائزے تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔
تکنیکی کانفرنس میں معدنیات کی تلاش اور ذخائر کے تخمینے، ارضیاتی نقشہ سازی، ریموٹ سینسنگ، جیو فزیکل سروے، معدنیات کی پراسیسنگ، دھات کاری، پراسیسنگ کی استعداد اور قیمتی معدنیات کی بازیابی جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد تکنیکی تعاون کو مضبوط بنانا اور ایسی معلومات فراہم کرنا ہے جو معدنیات کی تلاش، منصوبوں کی ترقی اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اسٹریٹجک کانفرنس اور تکنیکی پروگرام کے ساتھ پی ایم آئی ایف 26 میں ایک بین الاقوامی نمائش بھی منعقد ہوگی، جس میں معدنیات اور کان کنی کی پوری ویلیو چین سے وابستہ کمپنیوں، منصوبوں، مصنوعات، خدمات، آلات اور جدید ٹیکنالوجیز کو پیش کیا جائے گا۔
یہ نمائش منصوبہ سازوں، سرمایہ کاروں، کان کنی کے آپریٹرز، آلات تیار کرنے والی کمپنیوں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اداروں اور دیگر صنعتی شراکت داروں کو ایک دوسرے سے روابط قائم کرنے، کاروباری مواقع تلاش کرنے اور نئی شراکت داریاں تشکیل دینے کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی۔ نمائش میں صنعتی کمپنیوں کے لیے خصوصی اسٹالز، ممکنہ خریداروں کے ساتھ طے شدہ ملاقاتوں، منصوبوں کی پریزنٹیشنز اور خریداری سے متعلق بریفنگز کے لیے مخصوص زونز قائم کیے جائیں گے۔ منرل ایکسپو میں نایاب معدنی نمونے بھی نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے، جبکہ یورپی پویلین میں بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری کے مواقع اجاگر کیے جائیں گے۔
نمائش میں شرکت کرنے والی کمپنیوں اور اداروں میں پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی)، الائیڈ انجینئرنگ اینڈ سروسز، نیشنل ریسورسز (این آر ایل)، بور اینڈ بور، گلوباکور منرلز، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، ماڑی انرجیز، بیرک مائننگ کارپوریشن، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل)، گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل)، ریکوڈک مائننگ کمپنی اور پاکستان منرلز پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایم پی ایل) سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
ٌٌ**********



