دنیا بھر میں فضا میں حیرت انگیز مصوری کے لیے مشہور امریکی پائلٹ بینجمن میک ڈینیئل نے ایک بار پھر اپنی شاندار فضائی مصوری سے سب کو حیران کر دیا۔

منگل کو امریکی پائلٹ بینجمن میک ڈینیئل نے دنیا کی مشہور ترین پینٹنگز میں سے ایک، ایڈورڈ منک کی تخلیق ’’دی اسکریم‘‘ کو امریکی ریاستوں ارکنساس اور اوکلاہوما کے اوپر فضا میں ہوبہو بنا دیا۔
سوات : سیدوشریف اسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کرنے سے روک دیا گیا، فوری پاکستان چھوڑنے کا حکم
بینجمن میک ڈینیئل کو ایوی ایشن کی دنیا میں ’’پائلٹ پکاسو‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس غیر معمولی اور انتہائی پیچیدہ فضائی مشن کے لیے بینجمن میک ڈینیئل نے ہلکے سنگل انجن والے سیسنا اسکائی لین آر جی طیارے کا استعمال کیا۔
پینٹنگ کے تمام خدوخال، لہریں اور چہرے کے تاثرات درست انداز میں بنانے کے لیے پائلٹ کو مسلسل 5 گھنٹے اور 40 منٹ تک تقریباً 10 ہزار 575 فٹ کی بلندی پر پرواز کرنا پڑی، جہاں ہوا کے دباؤ اور طیارے کے موڑ کو سنبھالنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔
بینجمن میک ڈینیئل کسی کینوس یا پینٹ کے بغیر فلائٹ نیوی گیشن سسٹم پر پہلے سے تیار کردہ روٹ کو انتہائی باریک بینی سے فالو کرتے ہیں۔
جب طیارہ مخصوص موڑ اور چکر کاٹتا ہے تو لائیو فلائٹ ٹریکرز پر اس کا راستہ ایک لکیر کی صورت میں پینٹنگ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
پینٹنگ ’’دی اسکریم‘‘ میں موجود خوف کے تاثرات اور پس منظر میں بنے پل کو فضا میں ایک طیارے کے ذریعے اتنی درستگی سے تخلیق کرنا ایوی ایشن کی تاریخ کا ایک شاندار کارنامہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس فلائٹ پاتھ کی تصویر سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی وائرل ہوگئی۔
ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں اس طرح کے درست اور تیز موڑ کاٹنے کے لیے پائلٹ کی ذہنی یکسوئی اور طیارے پر کنٹرول کی اعلیٰ صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ بینجمن میک ڈینیئل اس سے قبل بھی فضا میں کئی پیچیدہ خاکے بنا کر عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ان کا یہ نیا کارنامہ بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے اور انہیں بھرپور داد مل رہی ہے۔



