حکومت نے پیٹرول137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے اور نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول پر لیوی میں 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 160 روپے 61 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ڈیزل پر لیوی ختم کر دی گئی ہے جو اس سے پہلے 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر تھی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آج کیا گیا فیصلہ ملکی قیادت کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور اس کے تحت ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے گی تاکہ یہ صرف مستحق افراد تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل استعمال کرنے والوں کو ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی، جبکہ ٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ایندھن پر 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ ریلوے کے لیے بھی حکومت سبسڈی دے گی تاکہ کرایوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔
اپنی چھت اپنا گھر’ اسکیم کھٹائی میں پڑگئی ! درخواست دینے والوں کے لئے اہم خبر
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں صدر مملکت کی رہنمائی حاصل رہی اور خطے کی صورتحال نے عالمی معیشت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے کو اس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ اس بحران کے پیدا ہونے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کے ذریعے عوام پر بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی، جبکہ تیل کی سپلائی بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے آتی ہے اور جن ممالک کے پاس اسٹریٹیجک ذخائر موجود ہیں وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں وزیراعظم کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے بروقت فیصلے کیے، اور انہی فیصلوں کی بدولت ایندھن کی فراہمی میں خلل نہیں آنے دیا گیا۔ مزید کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عمومی سبسڈی کے بجائے صرف کمزور طبقات کو ریلیف دیا جائے کیونکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث تمام عوام کو یکساں سبسڈی دینا ممکن نہیں رہا۔
آخر میں وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے بھرپور کوشش کی ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے، تاہم موجودہ حالات میں معاہدوں اور وعدوں کے تحت قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔