پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے تحت وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، سہیل آفریدی اب بھی خیبرپختونخوا کے قانونی وزیراعلیٰ ہیں، جبکہ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متاثر ہونے والا کوئی بھی شخص عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔
گزشتہ مالی سال پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدات 4.6 ارب ڈالررہیں: وزیر خزانہ
اسلام آباد میں سما سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 میں وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ کو ہٹانے کی گنجائش نہیں دی گئی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن بالکل غلط ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہائیکورٹ میں زیرِ التوا مقدمہ اپنے پاس منتقل کرسکتی ہے۔
اس سوال پر کہ کیا پاکستان تحریک انصاف، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کو بھی عدالتی کارروائی میں فریق بننے پر آمادہ کر رہی ہے، بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ پارٹی میں تاحال اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ تاہم، ان کے مطابق، اگر یہ جماعتیں چاہیں تو عدالتی کارروائی میں فریق بن سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ میں فی الحال وقفہ آگیا ہے اور اس وقت عدالتی کارروائی جاری ہے۔



