Gas Leakage Web ad 1

خیبرپختونخوا حکومت کیساتھ چلنے کی ہر ممکن کوشش کی، مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا: وزیراعظم

0

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر چلنے کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم اتفاق رائے کے بعد مذاکرات کو سبوتاژ کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ والی گھڑی تھی، اس لیے مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کیا۔

Gas Leakage Web ad 2

مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈھائی سال تک ہر ممکن کوشش کی گئی کہ معاملات بہتر کیے جائیں، لیکن اتفاق رائے کے بعد مذاکرات کو سبوتاژ کردیا گیا۔
پائلٹ کا فضا میں نیا شاہکار ، 5 گھنٹے مسلسل پرواز سے ایڈورڈ منک کی مشہور پینٹنگ ‘دی اسکریم’ کا خاکہ بنا دیا
وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات میں تمام معاملات طے ہونے کے قریب تھے، تاہم آخر میں پی ٹی آئی کے وفد نے کہا کہ انہیں صوبائی حکومت سے بات کرنی ہے۔ ان کے بقول، شاید وہاں انہیں ایک اور 9 مئی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے باعث تمام معاملات خراب ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ والی گھڑی تھی اور مجبوراً گورنر راج کا فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف ایک لفظ بولنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جبکہ سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ نے جس طرح کی باتیں کیں، وہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا میں لایا گیا اور پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد سوات میں دوبارہ دہشت گردوں کی آمد شروع ہوگئی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی حکومت ترقی کے سفر کو روکنے پر تلی ہوئی تھی اور یہ لوگ آج تک ڈی چوک سے باہر نہیں نکلے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان کی خوشحالی کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے سیاست دانوں نے بھی قربانیاں دیں، جس کے بعد خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا تھا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.