تنہائی اور سماجی میل جول سے دوری صحت مند زندگی کے کم از کم 6 سال کم کرسکتی ہے، تحقیق

تنہا رہنا اور سماجی طور پر الگ تھلگ ہونا صحت مند زندگی کے کم از کم 6 سال کم ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
ٹولین یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تنہائی اور سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے سے صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، تنہائی اور سماجی دوری سے ان برسوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے جن کے دوران انسان ڈپریشن، انزائٹی اور جسمانی صحت کے مسائل سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ تنہائی سے دماغی اور جسمانی صحت کے سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغی صحت کا تعلق ورم، بلڈ پریشر، میٹابولزم اور دیگر حیاتیاتی تبدیلیوں سے بھی ہوتا ہے، جو جسمانی صحت کو متاثر کرسکتی ہیں۔
اس تحقیق میں 2 لاکھ 77 ہزار سے زائد ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جو جسمانی اور دماغی طور پر صحت مند تھے۔ اس کے بعد یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ تنہائی اور سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے سے کسی فرد کی زندگی میں بیماریوں سے محفوظ رہنے والے برسوں کی تعداد میں کتنی کمی آتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مردوں میں تنہائی اور سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کے منفی اثرات زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔
ایسے مردوں میں جسمانی امراض سے محفوظ زندگی کے برسوں میں 1.7 سال، جبکہ دماغی امراض سے محفوظ رہنے والے برسوں میں 5.8 سال کی کمی دیکھی گئی۔
خواتین میں جسمانی امراض سے محفوظ زندگی کے برسوں میں 2.4 سال اور دماغی امراض سے محفوظ رہنے والے برسوں میں 3.7 سال کی کمی سامنے آئی۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے سماجی طور پر الگ تھلگ رہنے کے منفی اثرات کم کیے جاسکتے ہیں، تاہم صحت مند طرزِ زندگی تنہائی کے منفی اثرات سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔
محققین نے کہا کہ یہ تحقیق کسی حد تک محدود ہے، کیونکہ اس میں یہ ثابت نہیں کیا جاسکا کہ تنہائی یا سماجی طور پر الگ تھلگ رہنا براہِ راست دائمی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
تاہم، ان کے مطابق تحقیق کے نتائج سے یہ ضرور عندیہ ملتا ہے کہ سماجی میل جول صحت کے لیے اہم ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں اسکاٹ لینڈ کی گلاسگو یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر فرد کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے ہر ماہ کم از کم ایک بار ضرور ملنا چاہیے تاکہ تنہائی اور جلد موت کے خطرے سے بچا جاسکے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ماہ ایک بار بھی اپنے پیاروں سے ملاقات نہ کرنا جلد موت کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔
اس تحقیق میں ساڑھے 4 لاکھ سے زائد افراد کے طبی ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ان افراد کی اوسط عمر 57 سال تھی اور ان کی صحت کا 12.6 سال تک جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ سماجی دوری کی مختلف صورتیں، مثلاً تنہا رہنا، اکیلے پن کا احساس اور دوستوں یا رشتے داروں سے ملاقات نہ کرنا، جلد موت کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد اپنے دوستوں یا رشتے داروں سے دوری اختیار کرلیتے ہیں، ان میں دل کی شریانوں کی بیماریوں سے موت کا خطرہ 53 فیصد، جبکہ کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 39 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح تنہا رہنے والے افراد میں امراضِ قلب سے موت کا خطرہ 48 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
جن افراد کو سماجی تنہائی کی ایک سے زیادہ اقسام کا سامنا ہوتا ہے، ان میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 77 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق، لوگوں سے کٹ کر رہنے والے افراد میں جلد موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے ہر ماہ کم از کم ایک بار اپنے پیاروں سے ملاقات کرنا اہم ہے۔



