سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس پر فائرنگ کے ملزم ارشاد کی ضمانت منظور کرلی۔
پولیس نفری پر فائرنگ کے کیس کی سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم کے وکیل مطیع اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ ملزم کی گرفتاری کے بعد بنایا گیا ہے۔
امریکا کا حوثیوں کیخلاف انٹیلی جنس معلومات سعودیہ کو دینے کا فیصلہ، براہ راست کارروائی سے انکار
جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ ساتھی کی گولی صرف ٹانگ پر لگی، ملزم ساتھی کی فائرنگ سے مرا نہیں۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر پہلے بھی 16 سے زائد مقدمات ہیں۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پھر تو بہتر ہے ملزم جیل میں رہے، ہوسکتا ہے ملزم باہر آکر ساتھیوں کی فائرنگ سے مر جائے۔
جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس پر ملزم کے وکیل مطیع اللہ نے بتایا کہ ملزم کو ہاف فرائی کیا گیا ہے، فل فرائی نہیں۔
فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا یہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے؟ ہاف فرائی، فل فرائی کیا ہوتا ہے؟ جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہاف فرائی میں ٹانگ پر گولی ماری جاتی ہے، جبکہ فل فرائی میں جان سے مار دیا جاتا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کہتے ہیں تو ضمانت دے دیتے ہیں، ورنہ ملزم جیل میں محفوظ ہے۔ سرکاری خرچ پر ملزم کی حفاظت کی جارہی ہے۔ وکیل کی استدعا پر عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔
یاد رہے کہ ملزم ارشاد کو راولپنڈی میں پولیس پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔