تحقیق میں مردوں میں بانجھ پن کے بڑھتے خطرے کی ممکنہ وجہ دریافت
آج کے دور میں بانجھ پن کا مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا سامنا خصوصاً مردوں کو بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اب سائنسدانوں نے مردوں میں بانجھ پن کے بڑھتے ہوئے کیسز کی ایک اہم ممکنہ وجہ دریافت کی ہے، جو جسم میں چربی کی مقدار میں اضافے سے متعلق ہے۔
نیب کی رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 2 ہزار 452 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری
ڈنمارک میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جسمانی چربی میں اضافہ مردوں کی تولیدی صحت کو متاثر کر سکتا ہے اور بانجھ پن کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
آراہوس یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جسم میں چربی کی زیادہ مقدار تولیدی صحت سے متعلق مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس تحقیق میں 1058 افراد کو شامل کیا گیا، جن کی عمر تحقیق کے آغاز پر 18 سال 9 ماہ تھی۔
محققین نے ان افراد کے جسم میں چربی کی سطح، جسمانی وزن اور مسلز کے حجم کا جائزہ لیا۔ عام طور پر مجموعی جسمانی وزن میں 8 سے 19 فیصد تک چربی کو معمول کی سطح سمجھا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد سے زائد چربی کو زیادہ تصور کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق جسمانی چربی میں اضافے کے باعث اسپرم کاؤنٹ میں اوسطاً 23 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ زیادہ جسمانی چربی سے تولیدی صحت سے متعلق ہارمونز کا توازن بھی متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنا صرف عمومی صحت کے لیے ہی نہیں بلکہ تولیدی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ جسمانی چربی کو مناسب سطح پر رکھنا صحت کو بہتر بنانے اور بانجھ پن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ہیومین ری پروڈکشن میں شائع ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اپریل 2023 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ دنیا بھر میں تقریباً 17.5 فیصد بالغ افراد کو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ اعداد و شمار 1990 سے 2021 کے دوران ہونے والی 100 سے زائد طبی تحقیقی رپورٹس کے تجزیے پر مبنی تھے۔
رپورٹ کے مطابق بانجھ پن امیر، متوسط اور غریب ممالک سب کے لیے ایک اہم طبی چیلنج ہے۔ امیر ممالک میں بانجھ پن کی شرح 17.8 فیصد جبکہ متوسط اور غریب ممالک میں یہ شرح 16.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ بانجھ پن کے تقریباً ہر تین میں سے ایک کیس میں مردوں سے متعلق عوامل سامنے آتے ہیں۔