اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے مسائل کے حل کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم میں ملاقات کی تجویز دی تھی، جبکہ انہوں نے رانا ثنا اللہ کو اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی پیشکش بھی کی، لیکن حکومت خود سیاسی ملاقاتوں اور مذاکرات کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
وفاق کی 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی تیاری، ٹیکس اور ڈیوٹیز میں مکمل چھوٹ کی تجویز
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے بامقصد سیاسی ڈائیلاگ نہیں کرنا چاہتی۔ اپوزیشن وزیراعظم اور حکومتی وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہے، حکومت کو اس سلسلے میں پہل کرنی چاہیے۔
راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت اربعین کے سلسلے میں عراق میں موجود ہیں، تاہم اگر مذاکرات کل بھی ہوں تو وہ آج ہی پاکستان واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن کے خلاف انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج نہ کیے جاتے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے مثبت ماحول ضروری ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے حکومت ماحول کو خراب کر رہی ہے۔ اگر حکومت واقعی مذاکرات کرنا چاہتی تو اب تک اپوزیشن قیادت کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کرا دی جاتی۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن قائدین کے علاوہ ان کے خاندان کی خواتین کو بھی اڈیالہ ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔