بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے فیملی ملاقات اور ذاتی معالج کی رسائی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 12 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک کے مطابق عدالتی حکم پر عمل ہو چکا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے درخواست گزار کو ٹیلی فون پر سنا ہے۔
معرکہ حق میں پاکستان نے عسکری، سفارتی اور بیانیہ محاذ پر کامیابی حاصل کی، عطا اللہ تارڑ
سلمان اکرم راجہ نے اعتراض اٹھایا کہ عدالتی حکم کے مطابق بشریٰ بی بی کا علاج نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق سپرنٹنڈنٹ نے درخواست گزار کو عدالتی حکم کے مطابق ذاتی طور پر نہیں سنا، جبکہ انہیں ذاتی حیثیت میں سنا جانا چاہیے تھا۔
عدالت نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی کہ وہ درخواست گزار بشریٰ بی بی کی بیٹی کو پیر کے روز ذاتی حیثیت میں سنیں۔ کیس کی مزید سماعت 12 مئی کو ہوگی اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔