sui northern 1

جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گی

جے یو آئی اور تحریک تحفظ آئین 8 فروری کو الگ الگ یوم سیاہ منائیں گی

0
Social Wallet protection 2

اسلام آباد:
عام انتخابات کو دو سال مکمل ہونے پر 8 فروری کو تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتیں احتجاج کریں گی، تاہم الگ الگ احتجاجی پروگرام ہونے کے باعث اپوزیشن مشترکہ حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی۔

sui northern 2

اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے احتجاجی حکمت عملی کو حتمی شکل دی، جبکہ جے یو آئی (ف) نے اس حوالے سے الگ پروگرام کا اعلان کیا۔

اجلاس میں تحریک تحفظ آئین نے طویل تحریک کے بجائے صرف ایک روزہ احتجاج کا فیصلہ کیا، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ محمود اچکزئی پی ٹی آئی کو سڑکوں کی سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کریں گے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے تصدیق کی کہ 8 فروری کا احتجاج صرف ایک روز کے لیے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عوام حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف اپنے آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے ایک دن کے لیے پرامن تعاون کریں۔

فرانس میں کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور

محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ 8 فروری کے احتجاج میں مکمل شٹر ڈاؤن شامل ہوگا، جس کے لیے اپوزیشن اتحاد دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور دیگر طبقات سے تعاون کے لیے رجوع کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کا احتجاج ایک آغاز ہے اور اگلے مرحلے میں تحریک تحفظ آئین اپنے کارکنوں اور سیاسی جماعتوں سے جیل بھرو تحریک کے لیے تیاری کی اپیل کر سکتی ہے۔

ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو میں ترجمان اخوند زادہ حسین یوسف زئی نے کہا کہ انہوں نے 8 فروری کو ملک گیر ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی کال دی ہے۔

حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا، جبکہ جے یو آئی (ف) نے بھی 8 فروری کو یوم سیاہ قرار دیا ہے۔

تحریک تحفظ آئین کے احتجاج میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کا حصہ ہیں، تاہم 8 فروری کے احتجاج پر پی ٹی آئی یا تحریک تحفظ آئین نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا۔ ہم الگ احتجاج کر رہے ہیں، لیکن چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں تاکہ آئین کی بالادستی پر بات چیت ہو سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.