Gas Leakage Web ad 1

خلائی سفر کے دوران اسپیس کرافٹ کے اندر آئی فون کے تیرنے کا دلچسپ نظارہ

0

امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس 2 مشن کو کامیابی سے لانچ کر دیا ہے، جو چاند کے مدار تک 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد انسانوں کو لے جائے گا۔

Gas Leakage Web ad 2

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مشن میں پہلی بار ناسا کے خلا بازوں کو اپنے ذاتی اسمارٹ فونز لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ یعنی اب آئی فونز اور اینڈرائیڈ فونز کو خلا باز اپنے ساتھ خلا میں لے جا سکتے ہیں۔

آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز شامل ہیں، جن میں سے ایک نے ایکس (ٹوئٹر) پر ویڈیوز شیئر کی ہیں، جن میں خلا باز اسمارٹ فونز استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک ویڈیو میں ایک فرد نے اپنا آئی فون دوسرے فرد کی طرف اچھالا، جو کشش ثقل نہ ہونے کی وجہ سے ہوا میں تیرتا ہوا دوسرے فرد تک پہنچا۔

نسیم شاہ کو بہت کم سزا ملی، زبان پر کنٹرول نہ کیا تو ٹیم سے نکال دیں گے ، صوبائی وزیر

جب یہ خلا باز چاند کے مدار تک پہنچیں گے تو وہ انہی فونز سے چاند کی تصاویر بھی لیں گے، جو کافی دلچسپ ثابت ہوں گی۔ اس سے قبل ناسا کے خلائی مشنز میں خلا باز صرف ادارے کی فراہم کردہ کیمرے استعمال کرتے تھے، جن کی تصاویر یا ویڈیوز فوری طور پر شیئر نہیں کی جا سکتیں اور ان میں اسمارٹ فونز کے فیچرز دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

آرٹیمس 2 مشن میں شامل 4 خلا باز 10 روزہ مشن کے دوران تقریباً 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر کرتے ہوئے چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین پر واپس آئیں گے۔ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپالو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن کے ذریعے چاند پر بھیجا تھا، اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد دوبارہ انسانوں کو چاند کے قریب بھیجا جا رہا ہے۔

اس مشن کے لیے ناسا نے اسپیس لانچ سسٹم راکٹ اور اورین اسپیس کرافٹ استعمال کیے ہیں۔ نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن بغیر انسان کے چاند کے گرد گیا اور واپس آیا تھا، لیکن آرٹیمس 2 میں خلا باز شامل ہیں۔

10 روزہ آرٹیمس 2 مشن کا مقصد انسانوں کو چاند کے گرد لے جانا اور انہیں واپس زمین پر لانا ہے۔ اگرچہ یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے، مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.