وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ فیول سبسڈی پروگرام دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا، اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد اس پروگرام سے مستفید ہو چکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی معیشت، عوامی ریلیف، علاقائی سفارت کاری اور امن و امان کے حوالے سے قوم اور کابینہ کو اہم پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پیٹرول میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہونا تھا، تاہم حکومت نے ریفائنریز سے ونڈ فال پرافٹ شیئر کر کے یہ بوجھ عام آدمی پر نہیں ڈالنے دیا۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ فیول سبسڈی کا پروگرام دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا، جس سے اب تک 1 کروڑ 20 سے 50 لاکھ خاندان، تقریباً 7.5 کروڑ افراد، مستفید ہو چکے ہیں اور 28 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فیول سبسڈی میں بے ضابطگیاں کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی ہوگی، ایسے پیٹرول پمپس بند اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
ایل پی جی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ دہائیوں سے ایک مافیا ایل پی جی کے شعبے سے بھاری منافع کما رہا تھا، اب ایل پی جی کے لیے شفاف اور مسابقتی نظام ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایل پی جی درآمد ہوگی، مقابلے کی فضا پیدا ہوگی، جبکہ مقامی ایل پی جی سے حاصل ہونے والا منافع عوام کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ بحری راستوں پر چیلنجز درپیش ہیں، ایل این جی کی درآمد اور سپلائی کے لیے مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ ایل پی جی، ایل این جی اور پیٹرول کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے غیور عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ صوبے سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل قلع قمع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا سہ فریقی معاہدہ سامنے آیا ہے، پاکستانی وفود اور فیلڈ مارشل نے تہران کے اہم دورے کیے تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔



