پولیس میں بھرتی سے قبل مقدمے سے بریت کے باوجود نااہل قرار دینے سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں پس منظر کی جانچ پڑتال کے لیے 6 اہم آئینی اصول جاری کر دیے۔

عدالت نے میرٹ، انصاف اور مساوات کے آئینی تقاضے پورے کرنے کو لازم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے سے بری ہونے والے امیدوار کو سابقہ ایف آئی آر کی بنیاد پر بھرتی سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے مقدمے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں امیدوار عبداللطیف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے میرٹ لسٹ میں دوسری پوزیشن کے مطابق ان کی امیدواری بحال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق امیدوار 2018ء میں درج مقدمے سے بری ہوچکا تھا، اس کے باوجود پولیس نے سابقہ مقدمے کی بنیاد پر اس کے کردار پر سوال اٹھایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے جاری کردہ کلین کریکٹر سرٹیفکیٹ نظرانداز کرنے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں تھی۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ کسی امیدوار کو سنے بغیر بھرتی کے عمل سے خارج نہیں کیا جا سکتا، بریت کے بعد امیدوار کے کردار کا جائزہ صرف مستند شواہد کی بنیاد پر لیا جاسکتا ہے، محض شبہ یا سابقہ ایف آئی آر کی بنیاد پر انتظامیہ کوئی منفی فیصلہ نہیں کرسکتی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اسلامی احکام کے مطابق بھی کسی کے خلاف منفی اقدام مستند حقائق پر مبنی ہونا چاہیے، محض شبہ اس کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
بری ہونے والے امیدوار کے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں سابقہ مقدمے کو منفی انداز میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا، جب کہ زیرِ سماعت مقدمات کا ذکر صرف ان کی موجودہ قانونی حیثیت تک محدود ہونا چاہیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ پولیس کا یہ اقدام قانونی بدنیتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں آتا ہے، محض ایف آئی آر درج ہونے کو کسی شخص کے بنیادی حقوق اور ملازمت کے مواقع سلب کرنے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کا 22 مئی 2025ء کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ 30 روز کے اندر امیدوار کا طبی معائنہ اور دیگر قانونی کارروائی مکمل کرکے ان کی تقرری کا عمل مکمل کیا جائے۔



