
اسلام آباد، 2 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ مستحق صارفین کو سبسڈائزڈ پیٹرول کی فراہمی کے لیے 27 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے پیر کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کو روکتے ہوئے اس کا اضافی بوجھ صارفین کے بجائے آئل ریفائنریز پر منتقل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اولین ترجیح عوام پر مالی بوجھ کم سے کم رکھنا ہے، جبکہ اس اقدام کے نتیجے میں ریفائنریز کو ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو رعایتی نرخوں پر پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ سے زائد رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہیں، جبکہ پیٹرول پمپس کو بھی سبسڈائزڈ نرخوں پر فراہم کیے گئے ایندھن کی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت پیٹرولیم، اوگرا اور اسٹیٹ بینک کے باہمی تعاون سے اسکیم کا ملک بھر میں کامیابی سے آغاز کیا گیا ہے اور اہل صارفین کو ریلیف کی فراہمی جاری رہے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے عالمی صورتحال، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے، تاہم حکومت نے واضح ہدایات دی ہیں کہ عالمی حالات کے اثرات عوام پر منتقل نہ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی قلت نہیں اور سپلائی چین برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ مقامی آئل ریفائنریز ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا اضافی بوجھ برداشت کریں گی، جس کے باعث پیٹرول کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں 15 روپے فی لیٹر کم رکھی جا سکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرول کی درآمد پر پریمیم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 31 اکتوبر سے قبل پیٹرول کی درآمد پر منظور شدہ پریمیم تقریباً 20 ڈالر فی بیرل تھا، جبکہ بعد کے ٹینڈرز میں یہ 30 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا۔
وفاقی وزیر کے مطابق مقامی ریفائنریز ملک کی پیٹرول ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتی ہیں، جبکہ باقی 70 فیصد ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔ وزیراعظم نے مقامی ریفائنریز سے مشاورت کے بعد صارفین کو ممکنہ حد تک کم قیمت پر پیٹرول فراہم کرنے کے لیے یہ اقدام کیا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کا مقصد پیٹرول کی دستیابی کو یقینی بنانا اور صارفین کو عالمی منڈی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومتی مداخلت عارضی ہے اور منظور شدہ سمری کے تحت حکومت 30 دن کے اندر دوبارہ ڈی ریگولیشن کی جانب واپس جا سکتی ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ مارکیٹ میں 600 سے 700 روپے کی قیمتوں کا موجودہ تاثر درست نہیں، اس حوالے سے ایک سے دو روز میں اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نومبر کے دوران صارفین کی گیس ضروریات پوری کرنے کے لیے انتظامات مکمل ہیں اور حکومت دسمبر اور جنوری کے لیے بھی مناسب گیس فراہمی یقینی بنانے کے فیصلے کر رہی ہے۔ وزارت پیٹرولیم ستمبر سے موسم سرما میں گیس کی دستیابی کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ نومبر میں روزانہ کھانا پکانے کے تینوں اوقات میں گیس فراہم کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، معاشی اصلاحات اور ٹیکس وصولیوں سے متعلق حکومتی اقدامات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف بی آر میں ساختی اصلاحات متعارف کروائی ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے صنعتی پیداوار کی نگرانی سے اضافی محصولات حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سیمنٹ، تمباکو اور مشروبات سمیت مختلف شعبوں میں بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداوار کی نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبوں میں بھی اصلاحات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔



