وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ تیل کے طوفان کا مقابلہ غیر مشروط امداد سے نہیں کرسکتے کیونکہ اس کا حجم ہزاروں ارب روپے کا ہے۔ علی پرویز ملک نے اپنے حلقے میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وسائل اکٹھے کیے بغیر خرچ کرنے سے نتیجہ 2022 والا نکلے گا، جب پاکستان دیوالیہ پن کی نہج پر پہنچا اور مہنگائی کا سونامی آیا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جیسے ہی قیمتیں نیچے آئیں، فوری پاکستان میں بھی کمی کی جائے گی۔ اگر پیٹرول کی قلت پیدا ہوگئی تو فی لیٹر قیمت ایک ہزار روپے تک بھی جاسکتی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ عالمی مارکیٹ سے جڑا ہے، تیل کی قیمتیں وہ خود نہیں بدلتے بلکہ عالمی مارکیٹ میں روز قیمتیں بدلتی ہیں۔
گوگل نے جیمنائی میں میپس ٹول کا اضافہ کر دیا
وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے سعودی عرب کا دورہ کرکے تیل کی فراہمی پر شکریہ اور مشکل حالات میں اظہار یکجہتی کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس خطے پر بہت بڑی آزمائش کی گھڑی ہے، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پھر سے سر اٹھا رہی ہے، دہشتگردی ختم کرنے کے لیے سیاسی قائدین کو عسکری قیادت کے پیچھے لبیک کہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سے گزارش ہے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں، پاکستان کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے قومی یکجہتی ضروری ہے۔ علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ دسمبر، جنوری، فروری میں جو چیلنجز ہیں اس پر وزیراعظم کو ایک نشست میں آگاہی دے دی ہے، جو فیصلہ عوام اور ملک کے حق میں ہوگا وہی ہو گا، سردیوں سے پہلے جو اقدامات کیے جانے چاہیئں وہ بھی وزیراعظم کے سامنے رکھ دیے ہیں، اور گیس بحران کے طوفان کا مقابلہ بروقت ایل پی جی گیس منگوا کر کریں گے جبکہ ایل پی جی گیس کی قیمت پر کہوں گا کہ 70 سال سے قیمتیں اوگرا طے کرتا ہے۔



