کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں اسکالرشپس اور تقسیمِ اسناد کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں جامعہ کے طلبہ، اساتذہ، والدین، معزز مہمانانِ گرامی اور المنائی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں جبکہ تعلیمی فروغ اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا گیا۔
المنائی کی جانب سے 46 طلبہ کو اسکالرشپس بھی فراہم کی گئیں، جسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 لاکھ طلبہ جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں جبکہ انرولمنٹ کی شرح 20 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا ہوسٹنگ کے لیے ایچ ای سی نے اپنی مقامی سہولت جامعات کو فراہم کر دی ہے، جس کے بعد اب ایمیزون کے بجائے ملکی پلیٹ فارم پر ڈیٹا ہوسٹ کیا جا سکتا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد، سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
ڈاکٹر نیاز احمد کا کہنا تھا کہ میڈیکل کے شعبے میں ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرامز اب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے بجائے ایچ ای سی خود پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جنرل ایجوکیشن میں روزگار کے حوالے سے بڑے چیلنجز موجود ہیں جبکہ میڈیکل تعلیم کی فیس بھی بہت زیادہ ہے، اور مختلف جامعات میں اس کی سالانہ فیس میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے جہاں کہیں ایک لاکھ اور کہیں 6 سے 12 لاکھ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میٹروپولیٹن یونیورسٹی نے طلبہ کو تقریباً 50 لاکھ روپے کے اسکالرشپس فراہم کیے ہیں۔
چیئرمین ایچ ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کی اصل پہچان ان کی اخلاقیات ہونی چاہیے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے بیک وقت دو عہدوں پر کام کرنے کا معاملہ ان کے علم میں نہیں، وہ اسلام آباد جا کر اس کی تفصیلات معلوم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو ایم پی ون اسکیل کے تحت تنخواہ دی جا رہی ہے، تاہم 2.3 ملین روپے کی منظوری نہیں دی گئی۔