1973 کے متفقہ آئین کے منظور ہونے کے دن کے موقع پر اہم پیغام دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج کے دن 1973 کا آئین متفقہ طور پر منظور ہوا اور پاکستان کو باقاعدہ اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا، یہ دن قومی وحدت کی ایک علامت ہے۔
پاک بحریہ کا شمالی بحیرہ عرب میں کامیاب ریسکیو آپریشن، 18 افراد کو بچا لیا
انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے قومی اتفاق رائے کو ترجیح دی، 1973 کا آئین حقیقی معنوں میں میثاقِ ملی ہے اور ہم آئین کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مفکرِ اسلام مفتی محمود اور اپوزیشن قائدین کا کردار قابلِ فخر ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ آئین کا اسلامی تشخص مذہبی جماعتوں کی دوراندیش قیادت کا مرہونِ منت ہے اور چاروں صوبوں کے حقوق کا تحفظ آئین کی بنیاد ہے، تاہم ماضی میں آمرانہ قوتوں نے آئین کو نقصان پہنچایا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ سیاسی کارکنوں اور عوام نے آئین کے دفاع کے لیے قربانیاں دیں اور قوم نے آئین کی متفقہ حیثیت کو برقرار رکھا۔ انہوں نے دعا کی کہ پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام حاصل کرے، کیونکہ اسلام اور جمہوریت ہی وطنِ عزیز کی کامیابی اور ترقی کی ضامن ہیں۔