وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، اور اگر احتجاج کرنا ہے تو اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کیا جائے۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ابتدا میں یہ خیال تھا کہ جنگ تین سے چار ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، جبکہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کے باعث تیل کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی، تاہم انتہائی مجبوری کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ کچھ گروہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے احتجاج کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ہوا ہے اور اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے خلاف احتجاج کا جواز نہیں بنتا، اور اگر احتجاج کرنا ہے تو اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے، اس موقع پر سب کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔