ملک میں سیلز ٹیکس نظام مکمل ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ

ملک میں سیلز ٹیکس نظام مکمل ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ

0

وفاقی حکومت نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے بڑے اصلاحی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت صنعتوں اور نجی شعبے کو غیر ضروری ہراسانی سے بچانے کی تیاری کی گئی ہے۔

ہیئر ایکسٹینشنز میں سرطان سے جڑے کیمیکلز کی موجودگی کا انکشاف

سیلز ٹیکس کے تمام سرکاری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جائے گا تاکہ کاروباری عمل شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے سفارش کی ہے کہ بیرونِ ملک سے قانونی چینلز کے ذریعے آنے والی سرمایہ کاری کو اضافی چیکنگ سے استثنیٰ دیا جائے اور ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے کی غیر ضروری مداخلت کو روکا جائے۔ اس کے علاوہ، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ کا اختیار وزیراعظم آفس کو دینے کا امکان بھی زیر غور ہے۔

سرمایہ کاروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے مختلف تجاویز تیار کی گئی ہیں، جن میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ کے علاوہ مالیاتی اداروں سے آنے والی رقوم کی اضافی اسکروٹنی نہ کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ ایس ای سی پی قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ ریگولیٹڈ اداروں کے خلاف کارروائی سے قبل ایس ای سی پی کی منظوری لازمی ہو۔ غیر ملکی سرمایہ کار کی گرفتاری یا رقم کی ضبطگی سے تحفظ دینے کی بھی تجویز شامل ہے اور نائیکوپ ہولڈرز کو بھی غیر ملکی سرمایہ کار کے طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

ٹیکس اصلاحات میں ٹیکس اپیل دائر کرنے پر ریکوری کو خودکار طور پر معطل کرنا، ودہولڈنگ ٹیکس آڈٹس میں رسک بیسڈ نظام متعارف کرانا اور معمولی ٹیکس غلطیوں کو فوجداری جرائم کی فہرست سے نکالنا شامل ہے۔ ریگولیٹرز اور سرکاری افسران کو نیک نیتی میں کیے گئے فیصلوں پر قانونی تحفظ دینے کی بھی سفارش کی گئی ہے، جبکہ غیر قانونی مداخلت پر 30 روز قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، ایک بار ریٹرن کی نظرثانی پر جرمانہ اور سرچارج ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کے تمام سرکاری عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.