واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے اگلے رہنما کے انتخاب میں انہیں ذاتی طور پر شامل ہونا چاہیے۔
امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران امریکا کی شمولیت کے بغیر نیا رہنما مقرر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے۔
افغانستان سے صرف ایک توقع ہےکہ وہ پاکستان کےجائز سکیورٹی خدشات حل کرے: وزارت خارجہ
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ طور پر اگلا رہنما سمجھا جا رہا ہے لیکن وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایران میں ایسا شخص چاہتے ہیں جو ملک میں ہم آہنگی اور امن لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس تقرری میں شامل ہونا ہو گا جیسے وینزویلا میں ہوا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایسے کسی بھی نئے ایرانی رہنما کو قبول نہیں کریں گے جو سابقہ قیادت کی پالیسیوں کو جاری رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں پانچ سال کے اندر امریکا کے ساتھ دوبارہ تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔