ڈھاکا میں بنگلا دیش کے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جو 12 فروری کو منعقد ہوں گے۔ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ملک کے پہلے عام انتخابات ہوں گے، جس کے لیے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار میدان میں آ چکے ہیں۔
آسٹریلیا کیخلاف سیریز کیلیے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا اعلان، بڑے ناموں کی واپسی
ذرائع کے مطابق حسینہ واجد کے خلاف تحریک چلانے والے نوجوانوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی نے دارالحکومت ڈھاکا سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ جماعت اسلامی بنگلادیش نے بھی ڈھاکا میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان نے ضلع سلہٹ میں روڈ شو کے ذریعے مہم چلائی۔
دوسری جانب پابندی کے باعث سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ عام انتخابات میں حصہ لینے سے محروم ہے، جس کے باعث انتخابی میدان میں بڑی سیاسی جماعت کی عدم موجودگی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔