ملک صرف دشمن کے حملے سے ہی تباہ نہیں ہوتے بلکہ اپنی غفلت کے بوجھ سے بھی بیٹھ جاتے ہیں…. کبھی کبھی عاقبت نا اندیشانہ فیصلے بھی قوموں کو لے ڈوبتے ہیں۔ایسا برسوں پر محیط لاپرواہی، مفادات کی سیاست اور قومی سلامتی کو ثانوی سمجھنے کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کے غیر محفوظ ہونے کی خبریں محض عالمی منڈیوں کےلئے ہی تشویش کا باعث نہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک کےلئے بھی ایک واضح انتباہ ہے ۔ جس ریاست کی توانائی کی شہ رگ ایک تنگ سمندری راستے کی محتاج ہو اس کےلئے ایسی خبریں مشکلات کا سندیسہ ہوتی ہیں….
تیل ریاست کی وہ خاموش بنیاد ہے جس پر معیشت، دفاع اور انتظامی ڈھانچہ کھڑا ہوتا ہے۔ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنگیں توپوں، میزائلوں اور افواج سے جیتی یا ہاری جاتی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں جنگ میں برتری کا اندازہ ریاست کے پاس ایندھن کے ذخائر سے بھی لگایا جاتا ہے۔ آج پاکستان ایسے ہی نازک لمحے سے دوچار ہے جہاں آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کا غیر محفوظ ہو جانا محض ایک جغرافیائی یا بحری خبر نہیں بلکہ ان ممالک کے لئے ایک وجودی خطرہ ہے جن کی توانائی کی شہ رگ اسی سمندری راستے کی محتاج ہے۔ پاکستان انہی ممالک میں شامل ہے اور شاید ان میں سرفہرست بھی…. اس نے دہائیوں کے تجربے اور واضح انتباہات کے باوجود اپنی توانائی کی بنیاد کو مضبوط کرنے میں مجرمانہ غفلت برتی ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ ایک ماہ تک چلنے کا بیان محض داخلی سیاست یا بیانیہ نہیں بلکہ تنبیہ ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت، فضائی صلاحیت، زمینی نقل و حرکت حتیٰ کہ روزمرہ شہری زندگی بھی اسی ایندھن کی محتاج ہے جو آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ اگر یہ راستہ طویل مدت کےلئے مسدود ہو جائے یا شدید عدم استحکام کا شکار رہے تو یہ محض قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ نہیںرہے گا بلکہ ریاستی فعالیت کے مفلوج ہو جانے کا سبب بن جائے گا۔
ایندھن کے بغیر ٹینک حرکت نہیں کرتے، طیارے اُڑان نہیں بھرتے، بحری بیڑے بندرگاہوں سے نہیں نکلتے …. ایندھن ھرکت ہے اور حرکت زندگی ہے۔ یہ اصول کسی عسکری نظریے کا محتاج نہیں بلکہ تاریخ کا آزمودہ سبق ہے۔ اسی لئے دنیا کی سنجیدہ ریاستیں اس خطرے کو محض مارکیٹ فورسز پر نہیں چھوڑتیں بلکہ تیل کے تزویراتی ذخائر قائم کرتی ہیں تاکہ جنگ، ناکہ بندی یا عالمی بحران کی صورت میں ریاست کم از کم چند ہفتوں یا مہینوں تک سانس لے سکے۔ پاکستان بھی اس حقیقت سے ناواقف نہیں …. 1983 میں مرتب کی جانے والی فیڈرل وار بک میں پٹرولیم ڈویژن پر ایک واضح، غیر مبہم اور غیر مشروط ذمہ داری عائد کی گئی تھی کہ ملک میں کم از کم پینتالیس دن کی طلب کے برابر تیل کے ذخائر ہر حال میں برقرار رکھے جائیں۔ یہ کوئی رسمی یا علامتی حکم نہیںتھا بلکہ ایک سنجیدہ جنگی حکمت عملی تھی جسے اس وقت کی قیادت نے زمینی حقائق اور ممکنہ خطرات کو سامنے رکھ کر مرتب کروایا تھا۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے کس قدر غیر یقینی حالات میں رکھتی ہے۔ افغان جنگ، عالمی طاقتوں کی مداخلت اور ممکنہ ناکہ بندیوں کے خطرات کے پیش نظر یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ تیل محض ایک تجارتی جنس نہیں بلکہ قومی استحکام اور مکمل تباہی کے درمیان کھینچی ہوئی ایک باریک لکیر ہے۔ اسی سوچ کا تسلسل دو دہائیاں بعد بھی نظر آیا جب 2006 میں تزویراتی ذخائر کو ساٹھ دن یا اس سے زیادہ کرنے پر زور دیاگیا۔ اس وقت بھی مشرقِ وسطیٰ میں بے چینی بڑھ رہی تھی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں غیر یقینی تھیں اور خطے میں جنگ و جدل کے بادل منڈلا رہے تھے۔ یہ ایک فیصلہ کن موقع تھا جہاں پاکستان اپنی توانائی کی بنیاد کو مضبوط کر سکتا تھا مگر یہ موقع بھی روایتی تاخیر، بیوروکریسی، اور محدود مفادات کی نذر ہو گیا۔
کچھ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے پاس بمشکل بیس دن کا تیل موجود ہے اور یہ دعویٰ بھی اعدادوشمار کی درستگی سے مشروط ہے…. اگر ان اعداد و شمار درست تسلیم کر لیا جائے تو اصل تشویش محض کمی نہیں بلکہ شفافیت کے فقدان کی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ یہ ذخائر کس نوعیت کے ہیں، کہاں موجود ہیں، ہنگامی حالات میں کس شعبے کو ترجیح دی جائے گی اور آیا یہ ذخائر واقعی فوری طور پر قابلِ استعمال بھی ہیں یا نہیں…. جب اعداد و شمار ہی مشکوک ہوں تو ریاستی منصوبہ بندی اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہو تی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی توانائی کے شعبے میں توازن، شفافیت اور قومی مفاد کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے قائم کی گئی تھی مگر عملی طور پر یہ ادارہ یا تو بے بس دکھائی دیتا ہے یا بے خبر…. معلوم نہیں وہ کون سا بزرجمہر تھا جس کی دانش پر بھروسہ کر کے کچھ عرصہ قبل ایک چینی آئل مارکیٹنگ کمپنی کی پاکستان میںسٹوریج انفراسٹرکچر قائم کرنے کیلئے خطیر سرمایہ کاری کی پیشکش مسترد کی گئی۔ کیا چند بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تجارتی مفادات قومی سلامتی سے زیادہ طاقتورتھے؟ اگر ایسا ہے تو پھر”اوگرا“ کس کے مفاد کی نمائندگی کر رہا ہے….ریاست کی یا مارکیٹ کی؟
یہ بحران کسی خلا میں جنم نہیں لے رہا۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں موجود ہے جہاں افغانستان مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے، مشرقی سرحد پر بھارت کی نظرہماری کمزوریوںپر ہے اور عالمی طاقتیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تلی بیٹھی ہیں۔ ایسے ماحول میں توانائی کی کمزور بنیاد دشمن کیلئے کھلی دعوت کے مترادف ہوتی ہے۔ جنگیں ہمیشہ توپوں سے شروع نہیں ہوتیں؛ اکثر وہ سپلائی لائنز کاٹنے سے شروع ہوتی ہیں اور جس ریاست کی شہ رگ پہلے ہی کمزور ہو، وہ زیادہ دیر مزاحمت نہیں کر پاتی۔
اگر کسی عالمی یا علاقائی جھٹکے کے نتیجے میں یہ کمزور ذخائر جواب دے گئے تو اس کے اثرات محض کاغذی یا بیانیاتی نہیںرہیں گے اس کا اثر براہ راست فوجی تیاریوں پر پڑے گا…. نقل و حمل مفلوج ہوسکتی ہے، بجلی اور صنعت کا پہیہ رک سکتا ہے…. اگر اللہ نہ کرے ایسا ہوا تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں رہے گی بلکہ قومی خودمختاری پر ایک کاری ضرب ہوگی….یک ایسا ز خم جو ہم نے خود کو دیا ہوگا۔
اب سوال محض نظریاتی یا تجزیاتی نہیں رہا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سپلائی لائنیں واقعی کٹ گئیں تو اسکا ذمہ دار اور جواب دہ کون ہوگا؟ کیا ان فیصلوں کا محاسبہ کیا جائے گا جنہوں نے اس ملک کو اس نہج پر لا کھڑا کیا؟ یا پھر یہ بحران بھی دیگر قومی سانحات کی طرح فائلوں، کمیٹیوں اور خاموشی میں دفن ہو جائے گا؟ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ریاستیں غلطیوں سے نہیں بلکہ غلطیوں کے اعتراف سے انکار سے ٹوٹتی ہیں۔
اب وقت توہے مگر یہ وقت بہت کم ہے۔ پاکستان کے لئے تیل کے تزویراتی ذخائر میں فوری اور نمایاں اضافہ، شفاف اور آزاد آڈٹ، ریگولیٹر کو حقیقی معنوں میں خودمختار بنانا، اور قومی سلامتی کو تجارتی مفادات پر فوقیت دینا کوئی پالیسی آپشن نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والی نسلیں ہمیں دشمنوں کے ہاتھوں شکست خوردہ قوم کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ہی غفلت کے بوجھ تلے دب کر بکھر جانے والی ریاست کے طور پر یاد رکھیں گی۔