Gas Leakage Web ad 1

حکومت کا ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ڈاکٹر عشرت حسین کی سفارشات پر عمل درآمد کا فیصلہ، وزیر خزانہ

0

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے ادارہ جاتی اصلاحات اور تنظیم نو کے ایجنڈے کے لیے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین کی سفارشات کو بنیاد بنایا ہے۔ وزارتوں اور ان کے ماتحت محکموں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ان اصلاحات پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا۔ وہ ڈاکٹر عشرت حسین کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں مختلف ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے معاشی ترقی، علاقائی تعاون اور ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان مزید قرض لے کر ترقی کا سفر جاری نہیں رکھے گا، بلکہ سرمایہ کاری اور قرضوں کے تبادلے کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستان تقریباً 16 ہزار ارب روپے محصولات جمع کرتا ہے، جن میں سے 8 ہزار ارب روپے قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بلوچی، براہوی، سندھی اور اردو سمیت علاقائی زبانوں میں اے آئی نظام تیار کرنے کی تجویز بھی دی۔

تقریب میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و منصوبہ بندی راشد المہ محمود تیتمیر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط معاشی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے صنعتی ترقی، علاقائی پیداواری نیٹ ورکس، باعزت روزگار اور سماجی تحفظ پر مبنی جنوبی ایشیا کے نئے ترقیاتی ماڈل کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس کے باعث ترقی پذیر ممالک کو اپنی روایتی ترقیاتی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

ایس ڈی پی آئی کانفرنس کے تحت کاروباری شعبے میں ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق اجلاس میں چیئرمین مسابقتی کمیشن آف پاکستان فرید احمد تارڑ نے کہا کہ آسان کاروبار اقدام اصلاحاتی ایجنڈے کا صرف ایک حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں کاروباری اداروں کو وفاقی اور صوبائی محکموں میں ایک ماہ کے دوران 16 تک ٹیکس گوشوارے جمع کرانے پڑتے تھے۔ ماہرین نے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک ہزار تین ریگولیٹری اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی ڈیجیٹل رجسٹری، مشترکہ درخواست فارم، یکساں دستاویزات اور مربوط رپورٹنگ نظام متعارف کرانے کی تجاویز پیش کیں، تاکہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور ضابطوں میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

عالمی بحرانوں کے دوران سپلائی چین، پائیداری اور مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ہونے والے اجلاس میں مقررین نے مقامی صنعتی پیداوار اور پیداواری سلسلوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پیپسی کو پاکستان کے سربراہ سپلائی، پلاننگ اینڈ لاجسٹکس محمد میر نے کہا کہ مقامی پیداوار کے فروغ کا مقصد صرف غیر ملکی سپلائرز کی جگہ مقامی فروخت کنندگان کو شامل کرنا نہیں، بلکہ مکمل مقامی صنعتی نظام تشکیل دینا ہے۔ بحری امور و جہاز رانی کے سینئر مشیر کموڈور (ر) محمد عرفان تاج نے بندرگاہوں، پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل، جہاز رانی کی خدمات اور ڈیجیٹل سہولتوں میں بہتری کی ضرورت اجاگر کی۔

کانفرنس سے سابق وفاقی وزیر عبدالرزاق داؤد، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، چیئرمین بورڈ آف گورنرز شفقت کاکاخیل، حبیب بینک کے چیئرمین سلطان علی الانہ، بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عادل نجم اور دیگر ماہرین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے پائیدار ترقی، علاقائی تعاون، مؤثر حکمرانی اور بدلتے عالمی معاشی حالات کے مطابق نئی ترقیاتی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.