سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بیرسٹر سلمان کی بانی سے ملاقات نظام کی ضرورت تھی،اس ملاقات سے کسی بریک تھرو کا کوئی امکان نہیں، بانی کسی طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں،بانی پی ٹی آئی کے موقف سے جو بھی پیچھے جائے گا اس کی سیاست ختم ہوجائے گی۔

اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بیرسٹر سلمان کی بانی سے ملاقات نظام کی ضرورت تھی کیونکہ بانی کے مقدمات آگے نہیں بڑھ رہے،سلمان صفدر نے عدالت میں کہا تھا بانی سے ملاقات تک میں دلائل نہیں دوں گا،بانی سے ملاقات نظام کی ضرورت تھی یہ ہم پر احسان نہیں،ان کاکہناتھا کہ ملاقات میں قانونی پہلو کے ساتھ بانی اور بشریٰ بی بی کی صحت پر بات ہوئی،اس ملاقات کے بعد جو بھی قانونی راستہ ہوگا وہ اختیار کریں گے،سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہائی سپرٹ میں تھے،سلمان صفدر نے بتایا بانی کی باڈی لینگویج اور جذبہ قابل دید تھا،سلمان صفدر نے بتایا کہ بانی کسی طور پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل کاکہناتھا کہ یہ قانونی نوعیت کی ملاقات بانی کے ساتھ ہوئی ہے،ملاقات میں قانونی، صحت اور باقی معاملات بھی زیر بحث آئے ہیں،اس ملاقات سے کسی بریک تھرو کا کوئی امکان نہیں،ہم جس ملاقات کی بات کررہے ہیں وہ سیاسی نوعیت کی ملاقات ہے،جب تک سیاسی نوعیت کی ملاقات نہیں ہوگی معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔
سلمان اکرم راجہ کاکہناتھا کہ مجھے پارٹی میں فارورڈ بلاک کے امکانات نظر نہیں آرہے،لیکن کسی امکان کو خارج بھی نہیں کیا جاسکتا،اگر پارٹی کے اندر کسی کے ذہن یا دل میں کھوٹ ہے تو سامنے آجائے گا،بانی پی ٹی آئی کے موقف سے جو بھی پیچھے جائے گا اس کی سیاست ختم ہوجائے گی،ان کاکہنا تھا کہ بیرون ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پارٹی یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے،ہمارا جو آفیشل ترجمان ہے یا ان کی ٹیم ہے وہی پارٹی پالیسی پر بیان جاری کرتے ہیں،میں باہر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف بات نہیں کررہا لیکن وہ ہمارے تابع نہیں ہیں ۔
سیکرٹری جنرل کاکہناتھا کہ ہمیں سلمان صفدر کی ملاقات سے کوئی امید نہیں ہے ارادے بھی اچھے نظر نہیں آرہے،ملاقات سے پہلے سلمان صفدر نے مجھے آگاہ کیا تھا،ان کاکہناتھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کو مسیحا نہیں کہہ رہے،ہم یہ کہتے ہیں جبر کے نظام میں جو ہمارے ساتھ چلتا ہے ہم ان کو کیوں دھتکاریں،ہم نہ کسی پر انحصار کرتے ہیں نہ کسی کے مرہون منت ہیں،مولانا کی اپنی سیاست ہے ان کے پاس سٹریٹ پاور بھی ہے، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
سلمان اکرم راجہ کاکہناتھا کہ بانی کے پی میں حکومت ختم ہونے اور باقی سیاسی معاملات سے واقف تھے،بانی کو تواتر سے اخبارات نہیں مل رہے ٹی وی بھی نہیں لیکن بشریٰ کو اخبارات اور ٹی وی کی ایکسس ہے،بانی پی ٹی آئی نے سیاسی معاملات اور کے پی میں حکومت گرنے پر مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔
ان کاکہناتھا کہ ہمارا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ باضابطہ اتحاد نہیں ہےلیکن تحفظ آئین پاکستان کے تحت سیاسی جماعتیں اکٹھی چل رہی ہیں،ہمیں ایسی کوئی وزارت اعلیٰ قابل قبول نہیں جس کے لیے ہمیں اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹنا پڑے،حکومت کے ساتھ مذاکرات ایک ڈھکوسلہ تھا انھوں نے تمام تیاریاں پہلے کررکھی تھیں،ہماری وجہ سے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے،ہم حکومت کو دہشتگردی کے خلاف ملٹری آپریشنز کا بلینک چیک نہیں دے سکتے تھے،ہم ہرگز یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ ڈرون مارو اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کریں،اس ملک میں ہزاروں لوگ گمشدہ ہیں،خیبر ضلع میں ہزاروں لوگ بے گھر ہیں، لاکھوں لوگ خیمہ بستیوں میں جی رہے ہیں،کے پی میں مساجد، شادیوں اور مدرسوں پر ڈرون مارے گئے،یہ موضوع قابل بحث ہے کہ ملٹری آپریشنز کے دوران دہشتگردوں کے ڈرون بھی گرے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کاکہناتھا کہ مذاکرات میں ہم نے تجویز دی تھی کہ 72 گھنٹوں میں سیاسی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلاتے ہیں،اس میں طے کرلیتے ہیں کہ دہشتگردی سے کیسے نمٹنا ہے،نیشنل ایکشن پلان میں یہ نہیں لکھا کہ ڈرون چلیں گے اور لوگ بے گھر ہوں گے،جس مذاکراتی اجلاس کی تجویز ہم نے دی تھی گورنر راج لگانے کے بعد وہی اجلاس انھوں نے خود بلایا،ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے لیکن بے گناہوں کو بے گھر نہیں کرنا بے گناہوں کو نہیں مارنا،حکومت سے بات چیت کسی بھی وقت ہوسکتی ہے لیکن کل کی ملاقات ان کی اپنی ضرورت تھی،ہم اصول کی سطح پر ہمیشہ بات کرنے کو تیار ہیں۔



