وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب میں حوثی اکثریتی تنظیم انصاراللہ کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی پیداوار، اسٹریٹجک ذخائر اور توانائی کے ذرائع میں اضافہ کر رہا ہے۔

ریاض میں بین الاقوامی توانائی فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان آزمائش کی اس گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کے تحفظ، کم قیمت اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ضروری ہے۔
دستاویزات کی تصدیق کیلئے وزارت خارجہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن میں معاہدہ
اجلاس کے موقع پر وزیر پیٹرولیم نے لیبیا، قطر اور ترکیے کے وزرا سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔
لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ملاقات میں علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ریفائنریز کو لیبیا سے خام تیل درآمد کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سمیت اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کی صورت میں متبادل ذرائع برقرار رکھنے کے لیے خام تیل کی درآمد کے ذرائع میں تنوع چاہتا ہے۔
علی پرویز ملک نے قطر کے وزیر توانائی سے بھی تفصیلی ملاقات کی، جس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ترکیے کے وزیر توانائی نے بھی وفاقی وزیر پیٹرولیم سے ملاقات کی اور بتایا کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے ترک جہاز اگلے ماہ پاکستان پہنچے گا۔



