Gas Leakage Web ad 1

ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں: فیصل کریم کنڈی

0

گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 13 سال کے دوران پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں وقت لگے گا، تاہم تین ماہ کے اندر اقدامات کے نتائج اور واضح فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

Gas Leakage Web ad 2

انہوں نے کہا کہ آج ان کا پہلا ورکنگ ڈے تھا اور وفاق نے ان پر اعتماد کیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آخری اقدام ہوتا ہے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قانون ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
پنجاب میں ترقیاتی سکیموں کیلئے 63 ارب 5 کروڑ روپے کے فنڈز منظور
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کسی کو صوبے میں بدمعاشی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، جبکہ سکیورٹی اداروں کی تمام ضروریات پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پالیسی وفاق سے آئے گی اور ہماری پالیسی اسلام آباد سے آئے گی، کابل، قندھار اور جلال آباد سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی حکومت نہیں چاہتے تھے جس کی پالیسی ان کے بقول بیرونی مراکز سے آتی ہو۔

گورنر نے کہا کہ وہ صوبے میں امن، استحکام اور خوشحالی چاہتے ہیں اور وفاق و صوبے کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار نہیں کیا جاتا تھا۔ مخالفین کے احتجاج اور دعوؤں پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انقلاب لانے والے گورنر ہاؤس تک بھی نہیں پہنچ سکے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو وسائل فراہم کرنا ان کی پہلی ترجیح ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے 10 گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ شہدا کے بچوں کی سرپرستی کی جائے گی اور شہدا کے خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے کے 12 اضلاع میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جائیں گے۔ سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کرنا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔

سہیل آفریدی سے متعلق سوال کے جواب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جج نہیں ہیں کہ یہ فیصلہ کریں کہ کون گرفتار ہوگا اور کون رہا کیا جائے گا۔ جن افراد کے خلاف مقدمات ہوں گے، انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ جن کے خلاف مقدمات نہیں ہوں گے، انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔

گورنر نے کہا کہ ان کے اقدامات ہی تمام باتوں کا جواب دیں گے اور صوبے میں قانون کی عمل داری یقینی بنائی جائے گی۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاق نے صوبے کو اس کے مالی حقوق فراہم کرنے ہیں اور وہ یہ معاملہ دلائل کے ساتھ وفاق کے سامنے اٹھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور صوبے کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ترقی و خوشحالی کا سفر آگے بڑھانا ہے اور حکومت کی توجہ عملی اقدامات پر مرکوز رہے گی۔

گورنر نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ سرحدی صورتحال کے باعث تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تاجروں کے مسائل جلد حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں صوبے میں سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کا ماحول رہا، تاہم ان کے بقول عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ احتجاج کرنے والوں کا کنٹینر اب بھی کھڑا ہے، لیکن اسے ہٹانے کے لیے کوئی نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں مہمانوں کی خاطر تواضع کے لیے انتظامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک کسی نے گورنر ہاؤس کی دیواریں نہیں پھلانگیں۔

گورنر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اندھیرے کے بعد اجالا ہوتا ہے اور صوبے کا سفر اب اجالے کی جانب جاری ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.