اسلام آباد میں 22 سالہ طالبہ لائبہ کی پھندا لگی لاش ملنے کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ ایجنٹ بن کر فراڈ کرنے کے الزام میں ملزم نعمان کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملزم نے کرائے کا کمرہ لے رکھا تھا اور وہیں روپوش تھا۔ ملزم کے موبائل فون سے آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ ملزم کوئٹہ میں محکمہ اینٹی کرپشن میں ملازمت کرتا تھا، جہاں سے اسے معطل کردیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ملزم نے اسلام آباد کی ایک کمپنی میں بھی کام کیا۔
خیبرپختونخوا کے 8 قبائلی اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگائی جائے گی: ذرائع
لائبہ کے اہلخانہ کے مطابق اس نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی تھی اور وہ مزید تعلیم کے لیے امریکا جانا چاہتی تھی۔
اہلخانہ نے بتایا کہ امریکا میں تعلیم کے لیے ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے عوض 70 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔ موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرنے والے لائبہ کے والد نے پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے، جبکہ اس کی والدہ نے اپنے زیورات بینک میں گروی رکھ کر باقی رقم ایجنٹ کو دی۔ بعد ازاں لائبہ نے اپنی دستاویزات کی تصدیق کرائی تو وہ جعلی نکلیں۔
لائبہ نے آخری پیغام اپنے ماموں کو بھیجا تھا، جس میں اس نے کہا تھا کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں والد کو نہ بتایا جائے، کیونکہ یہ سن کر وہ مر جائیں گے۔



