Gas Leakage Web ad 1

ہاتھ کی کمزور گرفت اور ڈپریشن سے متاثر ہونے کے خطرے کے درمیان تعلق دریافت

0

ہاتھ کی کمزور گرفت ڈپریشن کے خطرے میں اضافے کی علامت ہوسکتی ہے، تحقیق

Gas Leakage Web ad 2

آپ نے ممکنہ طور پر کبھی اپنے ہاتھ کی گرفت کی مضبوطی کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا۔ یہ ایسی چیز نہیں جسے زیادہ تر افراد آزمانا پسند کرتے ہیں یا جس پر باقاعدگی سے نظر رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں جدید آئی ٹی پارک قائم، وزیراعظم نے “دانش آئی ٹی پارک” کا نام دے دیا
تاہم، ایک نئی تحقیق سے عندیہ ملا ہے کہ ہاتھ کی گرفت کی مضبوطی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس سے دماغی صحت کے بارے میں معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔

جرنل سائنس ڈائریکٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہاتھ کی کمزور گرفت ڈپریشن کے زیادہ خطرے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

اس تحقیق میں 14 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 لاکھ افراد پر کی جانے والی 12 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ ان تمام تحقیقی رپورٹس میں شامل افراد مطالعے کے آغاز میں ڈپریشن سے محفوظ تھے۔

ہاتھ کی گرفت کو طویل عرصے سے پٹھوں کی مجموعی صحت جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ کمزور گرفت کو دل کی بیماریوں سمیت مختلف طبی مسائل سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس نئی تحقیق میں ہاتھ کی کمزور گرفت اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کی کمزور گرفت رکھنے والے افراد میں وقت گزرنے کے ساتھ ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 26 سے 42 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق، صرف ہاتھ کی کمزور گرفت کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کوئی شخص ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے، تاہم یہ مجموعی صحت میں تنزلی اور ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب اشارہ ضرور کرتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں ہاتھ کی مضبوط گرفت اور دماغی افعال میں بہتری کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر دماغ کے حصے ہپوکیمپس (Hippocampus) کے حجم میں اضافے کا تعلق ہاتھ کی مضبوط گرفت سے دیکھا گیا ہے۔ ہپوکیمپس دماغ کا وہ حصہ ہے جو مزاج کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین کے مطابق، ہاتھ کی گرفت سے دماغی صحت کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پٹھوں کی اچھی مضبوطی مجموعی صحت بہتر ہونے کی علامت ہے۔ اس سے دائمی بیماریوں کا سامنا کرنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے، جس سے دماغی صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس میں مبتلا افراد اکثر اداس رہتے ہیں اور انہیں مسلسل بے بسی کا احساس بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم، ڈپریشن محض دماغ تک محدود رہنے والا مرض نہیں بلکہ اس کے اثرات جسم پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں ہر عمر کے افراد اس ذہنی بیماری سے متاثر ہورہے ہیں۔

اس سے قبل دسمبر 2024 میں اسپین کی کاسٹیل لا مانچا یونیورسٹی (Castile-La Mancha University) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چہل قدمی نہ صرف جسمانی فٹنس بہتر بناتی ہے بلکہ دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ تحقیق کے مطابق، روزانہ جتنے زیادہ قدم چلے جائیں، ڈپریشن کی علامات میں اتنی ہی کمی آسکتی ہے۔

اس تحقیق میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے 96 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی 33 تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے ان افراد کی چہل قدمی کی عادات اور دماغی صحت پر ان کے اثرات کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ بہت کم قدم چلنے سے بھی ڈپریشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق، روزانہ 5 ہزار قدم چلنے والے افراد میں ڈپریشن کی علامات کا سامنا کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزانہ ہر اضافی ایک ہزار قدم چلنے سے ڈپریشن کا خطرہ 9 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ 7 ہزار قدم چلتا ہے تو ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ 31 فیصد، جبکہ ساڑھے 7 ہزار قدم چلنے سے یہ خطرہ 43 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.