’’ایکوسسٹم‘‘ جاندار اور غیرجاندار اشیاء کے توازن اور ماحول کا ایک قدرتی وسیلہ
ایکوسسٹم یا ماحولی نظام سے مراد زمین کے مختلف حصوں، خصوصاً آبی حیات اور ارضی (زمینی) ماحول میں موجود جانداروں اور ان کے غیر جاندار ماحول کے درمیان پایا جانے والا باہمی تعلق ہے۔ اس میں وہ تمام عوامل شامل ہوتے ہیں جو کسی بھی جاندار کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں، جیسے پانی، مٹی، روشنی، آکسیجن اور دیگر طبعی و کیمیائی عناصر۔ جب کہ مختلف اقسام کے جانداروں کی وہ آبادی جو ایک ہی مسکن میں رہتی ہو اور ایک ہی ماحول میں زندگی گزار رہی ہو، ’’کمیونٹی‘‘ (Community) کہلاتی ہے، اور یہی کمیونٹیز مل کر ایکوسسٹم کی تشکیل کرتی ہیں۔
جدید تحقیق اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام میں بنیادی کردار مٹی (Soil) اور پانی کو حاصل ہے، جبکہ روشنی، آکسیجن اور دیگر غیر جاندار عوامل بھی اس کے توازن اور فعالیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان عناصر میں آلودگی پیدا ہو جائے تو ایکوسسٹم کا توازن بگڑ جاتا ہے اور آبی و زمینی حیات کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
ایکوسسٹم کے جاندار اجزاء میں پیداواری (Producers)، صارفین (Consumers) اور تحلیل کنندگان (Decomposers) شامل ہوتے ہیں۔ پیداواری وہ جاندار ہیں، عموماً پودے، جو روشنی کی مدد سے ضیائی تالیف (Photosynthesis) کے ذریعے اپنی غذا خود تیار کرتے ہیں۔ صارفین وہ جاندار ہیں جو اپنی غذا خود نہیں بنا سکتے اور دوسرے جانداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صارفین ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ درجات میں تقسیم ہوتے ہیں۔ تحلیل کنندگان وہ جاندار ہیں جو مردہ نامیاتی مادے کو گلانے سڑانے اور تحلیل کرنے کے ذریعے اپنی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں۔
یہ تمام اجزاء مل کر ایکوسسٹم کے حیاتی (Biotic) حصے تشکیل دیتے ہیں، جبکہ غیر حیاتی (Abiotic) اجزاء میں مٹی، پانی، ہوا، آکسیجن اور روشنی شامل ہیں۔ مٹی میں معدنی ذرات، نامیاتی مواد اور مسام دار خلاء پائے جاتے ہیں جو پانی اور غذائی اجزاء کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پانی ایک ہمہ گیر محلل ہے، جو معدنی نمکیات اور غذائی اجزاء کو تحلیل کر کے مختلف جانداروں تک پہنچاتا ہے۔
آبی ماحولی نظام میں سطح آب کے قریب وہ حصہ جہاں روشنی موجود ہوتی ہے، پیداواری زون کہلاتا ہے، کیونکہ یہاں پودے اور دیگر پیداواری جاندار شعاعی ترکیب کے ذریعے توانائی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس گہرے پانی والے حصے میں روشنی کی عدم موجودگی کے باعث پیداواری سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن ایکوسسٹم میں اہم کیمیائی کردار ادا کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ پانی میں حل ہو کر کاربونک ایسڈ بناتی ہے، جو مختلف معدنیات کے ساتھ مل کر کاربونیٹ اور بائی کاربونیٹ مرکبات تشکیل دیتی ہے۔ آکسیجن بھی شعاعی ترکیب کے ذریعے پیدا ہو کر جانداروں کی بقا میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اگر ایکوسسٹم میں موجود غذائی زنجیر کو برقرار رکھنا ہو تو اس کے تمام اجزاء کا تحفظ ضروری ہے۔ صنعتی اور تابکار فضلات، خواہ وہ ٹھوس ہوں، مائع ہوں یا گیس کی صورت میں ہوں، اگر ماحول میں شامل ہو جائیں تو یہ نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان فضلات کو محفوظ طریقے سے تلف کیا جائے تاکہ ماحولیاتی توازن برقرار رہ سکے اور ایکوسسٹم اپنی قدرتی حالت میں قائم رہ سکے۔