سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 29 اپریل 2026 کو افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقے میں مارٹر گولا فائر کیا گیا جو مقامی شہریوں کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے۔
میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق زخمی ہونے والے تین بچوں سمیت 5 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ایران اور یوکرین کی صورتحال سے متعلق ٹیلیفونک رابطہ
متاثرہ شخص نور علی نے بتایا کہ گولہ اچانک گھر پر آ گرا جس کے باعث زور دار دھماکا ہوا، جبکہ ایک اور متاثرہ شہری کے مطابق دھماکے کی شدت سے پورا گھر لرز گیا۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری کے باعث عام شہری خصوصاً بچے نشانہ بن رہے ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مسلسل پاکستان کی سول آبادی کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس فتنے کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔