پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی و صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑا اور واہگہ چیک پوسٹ پر ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک ناصر مشتاق نے یاتریوں کا استقبال کیا، جبکہ اس موقع پر کمشنر لاہور اور ڈی سی لاہور بھی موجود تھے۔
استقبالی تقریب میں سردار ستونت سنگھ، سردار تارا سنگھ، سردار ڈاکٹر ممپال سنگھ، ستونت کور سمیت دیگر کمیٹی اراکین بھی شریک ہوئے۔
خیبرپختونخوا: ڈاکٹروں کی بھرتی کیلئے نیا میرٹ معیار جاری
پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ پاکستان گورو نانک کی مقدس دھرتی ہے اور بھارت کے مختلف علاقوں سے یاترا کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کے باوجود 2800 سے زائد افراد کو ویزا جاری کرنا ایک اہم اقدام ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سکھوں کا دوسرا نہیں بلکہ پہلا گھر ہے اور جب بھی یاتری چاہیں، پاکستان آ سکتے ہیں کیونکہ یہاں کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں۔
سردار رمیش سنگھ نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے اور پاک بھارت جنگ کے دوران بھی سکھ یاتریوں کے لیے دروازے کھلے رکھے گئے، جبکہ مخالف قوتیں بھی پاکستان کی امن کوششوں کو تسلیم کرتی ہیں۔
یاتری جتھے کے سربراہ سردار ہرجیت سنگھ پپا نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا بھر کے سکھ یہاں آنا چاہتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں عزت اور احترام ملتا ہے۔
سردار چنٹوک سنگھ نے بتایا کہ پاکستان نے 2840 بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کیے ہیں، جس پر وہ حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ سرحدی بندش کے باوجود انہیں آمد کی اجازت دی گئی۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک ناصر مشتاق نے کہا کہ سکھ یاتریوں کے قیام، لنگر، ٹرانسپورٹ اور طبی سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا کہ اتر پردیش، دہلی اور دیگر بھارتی ریاستوں سے یاتری پاکستان پہنچے ہیں، جہاں واہگہ بارڈر پر کسٹم کلیئرنس اور امیگریشن کے بعد انہیں پنڈال میں چائے اور مشروبات سے تواضع کی گئی۔
یاتریوں کو بسوں کے تین مختلف قافلوں کی صورت میں گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب لے جایا جائے گا، جن میں سے پہلا قافلہ سخت سکیورٹی میں روانہ کر دیا گیا ہے۔
وساکھی میلے کی مرکزی تقریب 14 اپریل کو گوردوارہ پنجہ صاحب میں منعقد ہوگی۔