لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے کرپشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے متروکہ وقف املاک بورڈ کے ڈپٹی سیکرٹری محمد اکرم کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے خفیہ اطلاع اور شواہد کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران ملزم کو حراست میں لیا۔ حکام کے مطابق ملزم پر الزام ہے کہ اس نے ایک شہری کو دو سو پلاٹس کی لیز دینے کے عوض سترہ کروڑ روپے رشوت وصول کی۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے رشوت کی رقم چھپانے کے لیے مختلف غیر قانونی طریقے استعمال کیے اور اسی رقم سے لاہور کینٹ کے علاقے میں سات سو اکاون اسکوائر یارڈ کا قیمتی پلاٹ بھی خرید کر اپنے نام منتقل کرایا۔ ذرائع کے مطابق بدعنوانی کے شواہد چھپانے کے لیے ملزم نے جعلی سیل ڈیڈ تیار کروائی تاکہ مالی لین دین کو قانونی ظاہر کیا جا سکے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس معاملے میں دیگر سرکاری افسران یا نجی افراد بھی ملوث ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ملزم کے بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور مالی معاملات کی بھی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ادارہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔