زکوٰۃ کی رقم ایک فرد کو دینا بھی جائز ہے اور متعدد مستحق افراد میں تقسیم کرنا بھی جائز ہے۔ شریعت نے زکوٰۃ دینے والے کو اختیار دیا ہے کہ وہ حالات کے مطابق فیصلہ کرے۔
البتہ بلا ضرورت کسی ایک مستحق کو اتنی زیادہ رقم دینا کہ وہ خود صاحبِ نصاب بن جائے مکروہ سمجھا گیا ہے، اگرچہ اس صورت میں بھی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے۔
بجلی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ، درخواست دائر
افضلیت کا دار و مدار حالات پر ہے۔ اگر کوئی ایک شخص زیادہ حاجت مند ہو، مثلاً اس کے اخراجات زیادہ ہوں یا وہ قرض میں ہو، تو اسے پوری زکوٰۃ دینا بہتر ہے تاکہ اس کی ضرورت پوری ہو سکے۔
لیکن اگر زکوٰۃ کی پوری رقم ایک شخص کی ضرورت سے زیادہ ہو تو بہتر یہ ہے کہ اسے کئی مستحق افراد میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ زیادہ لوگوں کی مدد ہو سکے۔