حالیہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پیٹ اور کمر کے گرد جمع اضافی چربی یا توند متعدد دائمی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ اس سے ذیابیطس ٹائپ 2، میٹابولک سینڈروم، جگر میں چربی جمع ہونا، امراض قلب، فالج، کینسر اور الزائمر جیسے امراض کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے جسمانی وزن میں کمی لانا نہ صرف ظاہری شخصیت کے لیے بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی اہم ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے ورزش زیادہ مؤثر ہے یا غذائی عادات میں تبدیلی؟ اس بارے میں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق نے روشنی ڈالی ہے۔ اس تحقیق میں 7 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 49 سال تھی اور ان کی صحت کا جائزہ سات سال یا اس سے زیادہ عرصے تک لیا گیا۔
دسمبر کی تنخواہوں میں اضافہ ! ملازمین کے لیے بڑی خبر
تحقیق میں افراد کی جسمانی سرگرمیوں کو ٹریک کیا گیا اور جسمانی چربی کی مقدار کے ساتھ ساتھ غذائی عادات کی تفصیلات بھی جمع کی گئیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ صحت مند غذا اور ورزش دونوں کا امتزاج جسمانی وزن میں کمی، خصوصاً پیٹ اور کمر کی چربی گھلانے میں سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ صرف غذا یا صرف ورزش اختیار کرنے سے چربی کی مقدار میں معمولی کمی دیکھی گئی۔
محققین نے بتایا کہ غذائی معیار اور جسمانی سرگرمیوں کو بہتر بنانے والے افراد کی مجموعی جسمانی چربی میں تقریباً دو کلو اور توند کی چربی میں 150 گرام کمی واقع ہوئی۔ یہ فرق اہم ہے کیونکہ جسمانی چربی میں اضافہ موت کے خطرے کو تقریباً 11 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ موٹاپے یا زیادہ وزن کے شکار دنیا بھر میں تقریباً تین ارب افراد ہیں اور طویل مدتی چربی ذخیرہ خاص طور پر پیٹ اور کمر کے اردگرد اندرونی اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ نتائج جرنل "جاما نیٹ ورک اوپن” میں شائع ہوئے ہیں اور صحت مند زندگی کے لیے غذا اور ورزش دونوں کو یکجا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔