اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے مشیر بحیثیت سپیشل کوآرڈینیٹر محمد شراف الدین فریاد نے اسلام آباد و راولپندی میں منعقدہ الخدمت فاؤنڈیشن گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان، کوہستان و چترال کے طلباء کنونشن میں شرکت کیں۔
اسلام آباد میں منعقدہ الخدمت فاؤنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کی فلاحی خدمات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں بالخصوص یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ان کی خدمات قابل تحسین ہیں اور گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت انہیں مکمل سپورٹ فراہم کرے گی۔ قبل ازیں راولپنڈی میں منعقدہ گلگت بلتستان، کوہستان و چترال کے طلباء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شراف الدین فریاد نے کہا کہ جب تک آپ طلباء اپنی شناخت حاصل نہیں کر پائیں گے مسائل حل نہیں ہوسکتا۔
ان تاریخی و جغرافیائی حقائق سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ کوہستان، چترال اور کارگل و لداخ اپنی زبان و کلچر کے اعتبار سے گلگت بلتستان کے علاقے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر شناخت کے نام پر صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا بنایا جاسکتا ہے تو ہمیں بھی ہماری شناخت دی جائے اور چترال و کوہستان کو گلگت بلتستان سے ملا کر پاکستان کا پانچواں خود مختار صوبہ بنایا جائے اور جب کشمیر کا مسلہ حل ہوجائے گا تو کارگل و لداخ کے علاقوں کو بھی گلگت بلتستان میں ضم کیا جائے تاکہ اس خطے کا آئینی مسلئہ بھی حل ہو۔