خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ خطرناک ہے اور اس سے معاشرے میں نفرتیں اس قدر بڑھ سکتی ہیں کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
اخترمینگل کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری
اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور کسی قسم کی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی، صرف اوپر سے حکم آنے کا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے وزرا کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا اور انہیں پھاڑا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اراکین اسمبلی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو ان کے مطابق درست رویہ نہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ان سے کسی حکومتی عہدیدار نے رابطہ نہیں کیا، جبکہ عدالت کے احکامات موجود ہیں کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ملنے دیا جائے اور ان کا مناسب علاج کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو معلوم ہو چکا ہے کہ جیل میں عمران خان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے اور ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے نفرتوں میں اضافہ ہوگا جسے قابو کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو سرکاری ڈاکٹروں کے ہمراہ جیل بھیجا جائے اور انہیں فیملی کے ساتھ الشفا اسپتال منتقل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مراد سعید ان کے بڑے ہیں اور ان کی بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔