پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جرم ہوا ہے اور اس جرم میں سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم ملوث ہیں، لہٰذا مقدمہ انہی کے خلاف دائر کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے واضح کیا ہے کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی اور اب وہ صرف روشنی دیکھ سکتے ہیں۔ بانی چاہتے ہیں کہ ان کا علاج اُن ڈاکٹرز سے کیا جائے جن پر وہ اور اہل خانہ اعتماد رکھتے ہوں۔
سلمان اکرم راجہ نے مزید کہا کہ آنکھ میں تکلیف کے باوجود صرف سادہ سا ڈراپ دیا گیا اور یہ واقعہ ایک سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ کئی ہفتوں تک یہ نہیں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بانی کا علاج شفاء میں ہونا چاہیے اور ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی نے تین ماہ تک جیل انتظامیہ کو بتایا کہ ان کی آنکھ کام نہیں کر رہی، تاہم سپرنٹنڈنٹ عبدالغفور انجم اور کیمروں کے ذریعے جیل کے دیگر اہلکاروں نے اس پر کوئی مناسب کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو ہفتے قبل بانی کی آنکھ بالکل دیکھنا بند کر چکی تھی اور اس کے باوجود کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
علیمہ خان نے زور دیا کہ اگر انصاف وقت پر ملتا تو بانی جیل میں نہ ہوتے اور فوری طور پر ان کا علاج کرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ذرائع سے پھیلائی جانے والی خبریں کہ بانی کو بنی گالہ منتقل کیا جا رہا ہے، جھوٹ پر مبنی ہیں اور بانی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔